ریاض: سعودی عرب نے ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ایئرپورٹ کے دو اہم ٹرمینلز کو ملکی اور بین الاقوامی پروازوں کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے، جبکہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایئرپورٹ انتظامیہ نے اتوار کو ٹرمینل 1 اور 2 کے دوبارہ فعال ہونے کا اعلان کیا۔

رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے اوائل میں حوثی حملوں نے ایئرپورٹ کے ایک کمپلیکس کو نشانہ بنایا تھا جس میں 17 افراد ہلاک اور 330 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد بین الاقوامی پروازوں اور ٹرمینلز کے معمول کے آپریشن متاثر ہوئے، جبکہ گزشتہ ہفتے محدود ملکی پروازیں بحال کی گئی تھیں۔ اب دو ٹرمینلز کھولنے سے دارالحکومت کے بڑے فضائی مرکز کی سرگرمیاں مزید بحال ہوئی ہیں۔

سعودی فوجی ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق اتوار کی صبح فضائی دفاع نے ریاض کی جانب آنے والا ایک بیلسٹک میزائل اور ایک ڈرون تباہ کیا۔ ان کے بقول ملک کے جنوبی خطے کی طرف داغے گئے مزید دس بیلسٹک میزائل بھی روکے گئے۔ یہ تفصیلات سعودی حکام کے سرکاری بیان پر مبنی ہیں؛ حوثیوں کی جانب سے ہر انفرادی ہدف اور نتائج کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر دستیاب نہیں تھی۔

یمن میں جاری لڑائی اور سعودی عرب پر حوثی حملوں نے خطے کی شہری ہوا بازی، سرحدی سلامتی اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔ ریاض کا کنگ خالد ایئرپورٹ سعودی عرب کے اہم ترین فضائی مراکز میں شامل ہے اور بین الاقوامی مسافروں کے ساتھ ملکی پروازوں کا بھی بڑا مرکز ہے۔ اس لیے اس کے ٹرمینلز کی بحالی علاقائی فضائی رابطوں کے لیے اہم پیش رفت ہے۔

تاہم تازہ میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔ سعودی حکام نے فضائی دفاعی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ مسافروں کے لیے پروازوں کے اوقات اور آپریشنل تبدیلیوں کی براہ راست تصدیق ایئرلائنز اور ایئرپورٹ سے کرنا ضروری رہے گا۔