غزہ سٹی: غزہ سٹی میں اسلامک یونیورسٹی پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے، جبکہ فلسطینی شہری دفاع کے مطابق غزہ کے مختلف حصوں میں الگ فضائی حملوں میں مزید چار افراد مارے گئے۔ ڈان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ یونیورسٹی کے عملے اور مقامی اسپتال نے حملے اور ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

الشفا اسپتال کے مطابق اسے غزہ سٹی میں ڈرون حملے کے بعد تین لاشیں موصول ہوئیں اور آٹھ زخمیوں کا علاج کیا گیا۔ اسلامک یونیورسٹی کے دو ذرائع نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے افراد انتظامی عملے سے تعلق رکھتے تھے جبکہ زخمیوں میں طلبہ شامل تھے۔ غزہ کی وزارت تعلیم نے کہا کہ طلبہ کلاسوں کے لیے یونیورسٹی میں موجود تھے۔

اسرائیلی فوج سے واقعے پر تبصرہ مانگا گیا تو اس نے کہا کہ وہ رپورٹس کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس مرحلے پر فوج کی جانب سے حملے کے ہدف یا اس کے جواز سے متعلق تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا تھا۔ اسی لیے واقعے کی نوعیت اور ہدف کے بارے میں فلسطینی ذرائع کی معلومات کو اسرائیلی فوج کی حتمی تصدیق سے الگ رکھنا ضروری ہے۔

غزہ کے شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل کے مطابق اتوار کو مزید چار افراد الگ مقامات پر ہلاک ہوئے۔ ان میں دو افراد جنوبی شہر خان یونس میں ایک فضائی حملے، ایک شخص وسطی دیر البلح اور ایک شمالی غزہ میں مارا گیا۔ یہ ہلاکتیں ایک ایسے وقت رپورٹ ہوئیں جب غزہ میں ایک سال سے زائد عرصے سے جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود فضائی حملوں اور فائرنگ کے واقعات مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔

غزہ کی وزارت تعلیم نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی 95 فیصد عمارتیں متاثر یا تباہ ہو چکی ہیں اور گزشتہ چھ دنوں میں دس طلبہ اور اساتذہ اسرائیلی فائرنگ یا حملوں میں مارے گئے۔ فلسطینی صحت حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی فضائی حملوں میں بڑی تعداد میں فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ اسرائیل نے اسی عرصے میں اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی اطلاع دی ہے۔ ان وسیع اعدادوشمار کے بعض حصے فریقین کے سرکاری بیانات پر مبنی ہیں اور جنگی حالات میں آزادانہ تصدیق محدود رہتی ہے۔