تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان ان کے ملک کی بنیادی پالیسیوں اور مؤقف میں تبدیلی نہیں لائے گا۔ انہوں نے یہ بات تہران میں ایک ٹیلی وژن پروگرام کے دوران کہی، ایسے وقت جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

ڈان نے اے ایف پی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ عراقچی نے کہا کہ حالیہ دنوں میں نئی جنگ کی بات ہو رہی ہے، لیکن ایران اپنی پالیسی کو جنگ ہونے یا نہ ہونے سے مشروط نہیں کر رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالف فریق پہلے بھی فوجی راستہ آزما چکے ہیں اور تہران کے خیال میں دوبارہ کارروائی سے مختلف نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔ یہ ایرانی وزیر خارجہ کا سیاسی مؤقف ہے اور اسے مستقبل کے فوجی نتائج کی پیش گوئی کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق 8 اپریل کی جنگ بندی نے ایران اور امریکا کے درمیان شدید لڑائی کے مرحلے کو ختم کیا تھا، تاہم آبنائے ہرمز اور اس کے گرد بعض وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری رہیں۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ایران نے جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے دعوے کیے اور بعض جہازوں کو اجازت کے بغیر گزرنے پر نشانہ بنایا، جبکہ امریکا اور خطے کے ممالک نے اس پالیسی کی مخالفت کی۔

جون میں ایران اور امریکا نے اسلام آباد میں ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا تھا جس میں مستقل تصفیے کی راہ متعین کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن بعد میں دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے اور معاہدہ آگے نہ بڑھ سکا۔ تہران اس کے بعد اس فریم ورک کی طرف واپسی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

عراقچی نے کہا کہ موجودہ جنگ نے خطے کی حقیقتیں بدل دی ہیں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور انتظام پہلے جیسا نہیں رہے گا۔ انہوں نے علاقائی امن و استحکام کے لیے غیر ملکی افواج کی مکمل عدم موجودگی کو ضروری قرار دیا۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خلیج اور مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی، بحری راستوں کی سلامتی اور توانائی کی عالمی رسد ایک دوسرے سے جڑے بڑے سفارتی اور معاشی مسائل بنے ہوئے ہیں۔