برازیلیا: برازیل میں اتوار کو صدارتی انتخاب کے فیصلہ کن دوسرے مرحلے کے لیے ووٹنگ ہوئی، جس میں موجودہ صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کا مقابلہ دائیں بازو کے امیدوار فلاویو بولسونارو سے ہے۔ ڈان نے اے ایف پی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ آخری رائے عامہ کے جائزوں میں دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ انتہائی قریب تھا۔
لولا، جو منگل کو 81 برس کے ہو جائیں گے، مسلسل چوتھی غیر متصل صدارتی مدت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں وہ سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے فلاویو سے پیچھے رہے تھے، جس کے بعد ان کی مہم نے ووٹرز کو دوبارہ متحرک کرنے، بڑے جلسوں اور سوشل میڈیا حکمت عملی پر زیادہ توجہ دی۔
فلاویو بولسونارو، 45، نے جرائم کے خلاف سخت کارروائی، سرکاری اخراجات میں کمی اور قدامت پسند سماجی ایجنڈے کو اپنی مہم کا مرکزی حصہ بنایا۔ وہ اپنے والد کے مقابلے میں خود کو نسبتاً معتدل انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ سابق صدر جائر بولسونارو 2022 کے انتخاب کے بعد بغاوت کی کوشش سے متعلق مقدمے میں سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ فلاویو نے کامیابی کی صورت میں اپنے والد کی رہائی اور سپریم کورٹ کے جسٹس الیگزینڈر ڈی موریس کے مواخذے کی کوشش کا عندیہ دیا ہے۔
لولا نے اپنی مہم میں سماجی تحفظ کے پروگراموں میں توسیع، جمہوری اداروں کے دفاع اور امریکی سیاسی اثر و رسوخ کی مخالفت پر زور دیا۔ ان کے تیسرے دور حکومت میں افراط زر اور بے روزگاری میں کمی اور بھوک سے متاثرہ آبادی میں بہتری کا ذکر کیا جاتا ہے، تاہم مہنگائی کے احساس، روزمرہ اخراجات اور جرائم سے متعلق عوامی تشویش ان کے لیے بڑے انتخابی چیلنج رہے۔
یہ انتخاب برازیل کی داخلی سیاست کے ساتھ لاطینی امریکا کے وسیع سیاسی توازن کے لیے بھی اہم ہے۔ لولا کی کامیابی خطے میں بائیں بازو کی ایک بڑی حکومت کو برقرار رکھے گی، جبکہ فلاویو کی فتح دائیں بازو کی علاقائی پیش قدمی کو تقویت دے سکتی ہے۔ پولنگ اسٹیشن مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے بند ہونے تھے اور برازیل کے تیز الیکٹرانک ووٹنگ نظام کے باعث نتائج چند گھنٹوں میں متوقع تھے۔
