کولمبو: سری لنکا نے بحر ہند میں اپنے ساحل کے قریب موجود جہازوں سے 40 ایرانی ملاحوں کو ہنگامی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد وطن واپس بھیج دیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سری لنکن وزارت خارجہ کے ترجمان تھوشارا روڈریگو نے بتایا کہ حکام کو طبی مدد کے لیے ہنگامی درخواست موصول ہونے کے بعد ملاحوں کو ہفتے کے روز جنوبی بندرگاہ گال پر ساحل تک لایا گیا۔

ترجمان کے مطابق ایرانی سفارت خانے اور مقامی شپنگ ایجنٹس نے ملاحوں کی زمینی اور فضائی نقل و حرکت کے انتظامات کیے، جبکہ سری لنکن حکام نے امیگریشن سے متعلق کارروائی مکمل کی۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد یہ ملاح اتوار کی صبح ایران کے لیے روانہ ہوئے۔ حکام نے ان کی انفرادی طبی حالت یا بیماریوں کی نوعیت کے بارے میں تفصیل جاری نہیں کی۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی تیل بردار جہاز کئی ماہ سے سری لنکا کے قریب سمندر میں موجود ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز کے گرد امریکی بحری ناکہ بندی اور خطے میں جاری کشیدگی بتائی گئی ہے۔ سری لنکن حکام نے حال ہی میں تسلیم کیا تھا کہ 19 جہاز ساحل سے تقریباً 24 ناٹیکل میل دور پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے عملے کو خوراک، پانی اور ایندھن کی کمی کی شکایات ہیں۔

سری لنکا اس معاملے میں سفارتی اور اقتصادی توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حکومت نے پہلے ایرانی جہازوں کی وسیع امداد سے متعلق محتاط رویہ اختیار کیا تھا اور قومی مفادات کے ساتھ ممکنہ امریکی ثانوی پابندیوں کے خطرے کا حوالہ دیا تھا۔ تاہم تازہ معاملے میں انسانی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ یہ اقدام اس بات کی مثال ہے کہ خطے کی بڑی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اب دور دراز سمندری راستوں اور تیسرے ممالک کے لیے بھی عملی اور انسانی مسائل پیدا کر رہی ہے۔