سنگاپور: ایشیائی حصص بازاروں میں پیر کو محتاط کاروبار ہوا جبکہ برینٹ خام تیل گزشتہ ہفتے کی چھ ماہ کی بلند سطح سے نیچے آگیا۔ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، عالمی افراط زر کے خطرات، اس ہفتے ہونے والے متعدد مرکزی بینک فیصلوں اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل تقریباً 1.9 فیصد کم ہوکر 114.48 ڈالر فی بیرل رہا، جبکہ امریکی خام تیل 2.2 فیصد کم ہوکر 101.01 ڈالر کے قریب آیا۔ گزشتہ ہفتے برینٹ میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا تھا، جس کی بڑی وجہ سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد توانائی کی رسد سے متعلق خدشات تھے۔ قطر کی جانب سے تہران میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کی اطلاعات نے پیر کو تیل قیمتوں میں کچھ نرمی پیدا کی۔

جاپان کا نکی انڈیکس 0.2 فیصد کم ہوا، جنوبی کوریا کا مرکزی انڈیکس 0.5 فیصد گرا، جبکہ چین کے بلیو چپ حصص بھی تقریباً 0.5 فیصد نیچے رہے۔ چینی مارکیٹ مسلسل گیارہویں ہفتے دباؤ میں ہے، جہاں اندرونی طلب کے بارے میں خدشات مضبوط برآمدات کے باوجود سرمایہ کاروں کے رویے پر اثر ڈال رہے ہیں۔

تیل کی بلند قیمتیں عالمی مرکزی بینکوں کے لیے اہم مسئلہ بن گئی ہیں کیونکہ توانائی مہنگی ہونے سے افراط زر دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔ اس ہفتے امریکی فیڈرل ریزرو، یورپی مرکزی بینک اور بینک آف جاپان کے فیصلے متوقع ہیں، جبکہ نیوزی لینڈ اور کینیڈا میں شرح سود بڑھنے کی توقعات زیادہ ہیں۔ بازار امریکی فیڈ کے اکتوبر اجلاس میں شرح برقرار رہنے کی توقع کر رہے ہیں، لیکن دسمبر میں اضافے کے امکانات قیمتوں میں شامل کیے جا رہے ہیں۔

سرمایہ کاروں کی توجہ بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سہ ماہی نتائج پر بھی ہے۔ الفابیٹ، مائیکروسافٹ اور ایمیزون سمیت متعدد بڑی کمپنیاں اس ہفتے نتائج جاری کریں گی، جن سے مصنوعی ذہانت سے متعلق بھاری سرمایہ کاری کی پائیداری اور منافع پر اثر کے بارے میں نئے اشارے مل سکتے ہیں۔ ایشیا میں ایس کے ہائنکس اور سام سنگ الیکٹرانکس کے نتائج بھی زیر نظر ہیں۔

امریکی دس سالہ ٹریژری بانڈ کی پیداوار تقریباً 4.97 فیصد رہی، جبکہ سونا 0.4 فیصد بڑھ کر 4,012 ڈالر فی اونس کے قریب پہنچا۔ جاپانی ین نے محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان سے کچھ سہارا حاصل کیا۔

موجودہ مارکیٹ حرکات کسی ایک عامل کا نتیجہ نہیں بلکہ توانائی، شرح سود، جغرافیائی سیاست اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی قدر کے بارے میں بیک وقت بدلتی توقعات کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس ہفتے مرکزی بینک بیانات اور کارپوریٹ نتائج سے عالمی منڈیوں میں مزید اتار چڑھاؤ ممکن ہے۔