اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کے شعبے میں سبسڈی کو زیادہ ہدفی اور مؤثر بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطح وزارتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر منصوبہ بندی کریں گے اور اس کا بنیادی کام ایسی حکمت عملی تیار کرنا ہے جس کے ذریعے سرکاری امداد ان صارفین تک زیادہ مؤثر انداز میں پہنچائی جا سکے جنہیں اس کی حقیقی ضرورت ہے۔

پاکستان میں بجلی کے نرخ، گردشی قرضہ، پیداواری لاگت اور مختلف صارف طبقات کو دی جانے والی سبسڈی طویل عرصے سے مالیاتی پالیسی کے اہم موضوعات رہے ہیں۔ عمومی سبسڈی کا ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اس کا فائدہ ضرورت مند اور نسبتاً زیادہ آمدن رکھنے والے صارفین دونوں کو پہنچ سکتا ہے، جبکہ ہدفی سبسڈی کا مقصد دستیاب سرکاری وسائل کو مخصوص اہل گھرانوں یا صارف گروہوں تک محدود کرنا ہوتا ہے۔

وزارتی کمیٹی کی تشکیل اس مرحلے پر پالیسی سازی کا اقدام ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بجلی کے نرخوں یا موجودہ سبسڈی نظام میں کوئی فوری حتمی تبدیلی نافذ کر دی گئی ہے۔ کمیٹی کو مختلف وزارتوں، توانائی کے اداروں، مالیاتی حکام اور سماجی تحفظ کے ڈیٹا کے درمیان قابل عمل طریقہ کار تلاش کرنا ہوگا، جس کے بعد سفارشات حکومت کے سامنے پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

ہدفی سبسڈی کے نظام میں صارف کی اہلیت طے کرنا ایک اہم عملی مسئلہ ہوتا ہے۔ اگر آمدن، بجلی کے استعمال، قومی سماجی و اقتصادی رجسٹری یا دوسرے سرکاری ڈیٹا کو استعمال کیا جائے تو معلومات کی درستگی، اپیل کے طریقہ کار اور کمزور گھرانوں کے اخراج سے بچاؤ ضروری ہوگا۔ دوسری طرف، بہت وسیع سبسڈی مالیاتی بوجھ میں اضافہ کر سکتی ہے اور توانائی کے شعبے کی لاگت پوری کرنے کے حکومتی اہداف کو متاثر کر سکتی ہے۔

پاکستان کے توانائی شعبے میں اصلاحات کا تعلق بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاشی پروگراموں اور ملکی بجٹ کی ترجیحات سے بھی رہا ہے۔ بجلی کی قیمت میں کسی تبدیلی کا اثر مہنگائی، صنعت کی لاگت، برآمدی مسابقت اور گھریلو اخراجات پر پڑ سکتا ہے، اس لیے ہدفی امداد کی تشکیل میں مالی نظم اور سماجی تحفظ کے درمیان توازن اہم ہوگا۔

کمیٹی کی حتمی سفارشات، اہلیت کے معیار، ممکنہ مالی حجم اور نفاذ کی تاریخ ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو ایک پالیسی تیاری کے مرحلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ حکومت کے آئندہ فیصلے سے واضح ہوگا کہ موجودہ بجلی سبسڈی ڈھانچے میں کیا تبدیلی کی جاتی ہے اور مستحق صارفین کی شناخت کے لیے کون سا نظام اختیار کیا جاتا ہے۔