کراچی: پاکستانی صنعتکاروں نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کو یورپی یونین کی منڈی میں وسیع ڈیوٹی فری رسائی ملنے سے پاکستان کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے کو GSP پلس کے تحت حاصل مسابقتی فائدہ کم ہو سکتا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر عبد الہادی نے حکومت سے برآمدی صنعت کی لاگت اور عالمی مسابقت کے مسائل پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
عبد الہادی کے مطابق پاکستان کا GSP پلس درجہ یورپی مارکیٹ میں ملکی برآمدات، بالخصوص ٹیکسٹائل اور اپیرل، کے لیے اہم سہولت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تقریباً 89 فیصد برآمدات کو اس فریم ورک کے تحت ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے۔ ان کے بقول اگر بھارتی مصنوعات کو بھی وسیع پیمانے پر اسی نوعیت کی ٹیرف سہولت ملتی ہے تو پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے قیمت کی بنیاد پر مقابلہ مزید سخت ہو سکتا ہے۔
یہ انتباہ صنعت کی نمائندہ تنظیم کا مؤقف ہے، کسی سرکاری تخمینے یا اس بات کی ضمانت نہیں کہ پاکستان کی برآمدات لازماً کم ہوں گی۔ برآمدی کارکردگی پر توانائی اور مالیاتی لاگت، شرح تبادلہ، خام مال، معیار، ترسیل کا وقت، عالمی طلب اور خریداروں کی حکمت عملی سمیت متعدد عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔
پاکستان کے لیے GSP پلس یورپی یونین کے ساتھ تجارت میں ایک اہم پالیسی فریم ورک ہے۔ اس کے تحت اہل مصنوعات کو ترجیحی ٹیرف رسائی ملتی ہے، جبکہ اس سہولت کا تعلق انسانی حقوق، مزدور حقوق، ماحولیات اور گورننس سے متعلق بین الاقوامی کنونشنز پر عملدرآمد کی شرائط سے بھی ہے۔ اسی لیے پاکستان کی یورپی منڈی میں مسابقت صرف ٹیرف سے نہیں بلکہ پالیسی اور تعمیل کے وسیع تر تقاضوں سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
صنعتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی اور گیس کی لاگت، ٹیکس پالیسی، فنانسنگ اور کاروباری ماحول میں ایسی اصلاحات کی جائیں جن سے برآمد کنندگان علاقائی حریفوں کا مقابلہ کر سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ترجیحی رسائی کا فائدہ اس وقت زیادہ مؤثر ہوتا ہے جب مقامی پیداواری لاگت بھی قابل مقابلہ ہو۔
بھارت اور یورپی یونین کے تجارتی انتظامات کی حتمی نوعیت اور ان کے عملی اثرات متعلقہ معاہدوں، ٹیرف لائنز اور نفاذ کے شیڈول پر منحصر ہوں گے۔ اس لیے موجودہ خبر کا مرکزی نکتہ پاکستانی صنعتی تنظیم کی جانب سے ظاہر کیا گیا مسابقتی خدشہ ہے۔ حقیقی اثر آنے والے تجارتی اعداد و شمار اور یورپی خریداروں کے آرڈرز میں تبدیلی کے بعد زیادہ واضح ہوگا۔
