اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تازہ جائزے کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق حکومتی نوٹیفکیشن میں دی گئی مدت کے مطابق ہوگا۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی خام تیل اور تیار شدہ مصنوعات کی قیمتوں، روپے اور ڈالر کی شرح تبادلہ، درآمدی لاگت، فریٹ، پیٹرولیم لیوی اور دیگر سرکاری اجزا کو مدنظر رکھ کر وقتاً فوقتاً نظرثانی کے بعد مقرر کی جاتی ہیں۔ اس لیے ایک ہی جائزے میں مختلف مصنوعات کی قیمتوں میں الگ الگ تبدیلی ممکن ہوتی ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کا استعمال پاکستان کے ٹرانسپورٹ، زراعت اور مال برداری کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔ اس کی قیمت میں اضافہ بسوں، ٹرکوں، زرعی مشینری اور سامان کی ترسیل کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تاہم کسی مخصوص شے کی خوردہ قیمت یا مجموعی مہنگائی پر حتمی اثر کا انحصار کاروباری لاگت، طلب، رسد اور دیگر معاشی عوامل پر ہوگا۔

پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے سے موٹر سائیکلوں، کاروں اور دیگر پیٹرول استعمال کرنے والی گاڑیوں کے صارفین کے لیے اس جائزے میں براہ راست فی لیٹر اضافہ نہیں ہوا۔ اس کے باوجود ایندھن کے مجموعی اخراجات پر ٹیکس، سفر کی مقدار اور مستقبل کے قیمت جائزوں کے فیصلے اثر انداز ہوتے رہیں گے۔

حکومت کے پیٹرولیم قیمتوں سے متعلق فیصلے عام طور پر وزارت خزانہ یا متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے نافذ کیے جاتے ہیں، جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی قیمتوں کے حساب سے متعلق تکنیکی سفارشات فراہم کرتی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور شرح تبادلہ میں تیز تبدیلی اگلے جائزے میں مقامی قیمتوں کے لیے اہم عنصر بن سکتی ہے۔

موجودہ پیش رفت کو اسی قیمت جائزے تک محدود سمجھنا چاہیے۔ یہ کسی طویل مدت کے لیے قیمتیں منجمد کرنے کا اعلان نہیں ہے، اور آئندہ مقررہ جائزے میں پیٹرول یا ڈیزل کی قیمتیں دوبارہ تبدیل ہو سکتی ہیں۔ صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے اصل قابل اطلاق نرخ وہی ہوں گے جو سرکاری نوٹیفکیشن میں مقرر کیے گئے ہیں۔