اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت نے وکلا ایمان زینب مزاری حاضر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف ایک سکیورٹی روٹ سے متعلق مقدمے میں فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی ملتوی کر دی۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق عدالت میں ملزمان کو اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جانا تھا، تاہم بجلی کی بندش کے باعث رابطہ قائم نہ ہو سکا اور کارروائی اگلے روز تک مؤخر کرنا پڑی۔
مقدمہ آبپارہ پولیس اسٹیشن میں درج ہے اور استغاثہ نے اس میں ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی روٹ میں مبینہ خلل اور عوامی بے امنی پر اکسانے سے متعلق الزامات عائد کیے ہیں۔ یہ الزامات ابھی عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوئے اور فرد جرم کا مرحلہ بھی مکمل نہیں ہوا، اس لیے دونوں افراد کو اس مرحلے پر ملزم کے طور پر ہی بیان کیا جانا درست ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا کے سامنے سماعت میں فرد جرم طے ہونا تھی۔ رپورٹ کے مطابق عدالت نے اس امر کا ذکر کیا کہ وکالت نامے موصول ہو چکے ہیں اور عدالتی کارروائی کو وکلا کی سہولت کے مطابق نہیں چلایا جا سکتا۔ مختصر وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی، مگر اڈیالہ جیل میں بجلی کی بندش کے سبب ویڈیو لنک پر ملزمان کی پیشی ممکن نہ رہی۔
کسی فوجداری مقدمے میں فرد جرم عائد ہونا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتا بلکہ اس مرحلے پر عدالت باضابطہ الزامات سامنے رکھتی ہے، جس کے بعد استغاثہ اور دفاع کو اپنے شواہد اور دلائل پیش کرنے کا موقع ملتا ہے۔ موجودہ سماعت میں تکنیکی رکاوٹ کے باعث یہ مرحلہ ہی مکمل نہیں ہو سکا۔
مقدمے کی آئندہ سماعت میں عدالت دوبارہ فرد جرم کی کارروائی آگے بڑھا سکتی ہے، بشرطیکہ ملزمان کی پیشی ممکن ہو۔ اس خبر میں مقدمے کے الزامات کو پولیس اور استغاثہ کے دعووں کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے؛ کسی حتمی عدالتی فیصلے یا ذمہ داری کا تعین ابھی نہیں ہوا۔
