پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ہفتہ 10 اکتوبر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک گروپ کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کے لیے تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک روانہ ہوگئے۔ وزارت خزانہ کے مطابق یہ اجلاس 12 سے 18 اکتوبر تک ہوں گے اور وزیر خزانہ پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ ان کا دورہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں، دوسرے ممالک کے اقتصادی حکام اور نجی سرمایہ کاروں سے رابطوں پر مرکوز ہوگا۔
وزارت خزانہ نے بتایا کہ وزیر خزانہ کا پروگرام 60 سے زیادہ اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں اور سرگرمیوں پر مشتمل ہے۔ ان میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی قیادت، ترقیاتی شراکت داروں، عالمی سرمایہ کاروں، بینکوں، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں اور پالیسی اداروں کے نمائندوں سے بات چیت شامل ہے۔ اجلاسوں میں دنیا کی اقتصادی صورت حال، سرمایہ کاری اور مالیاتی پالیسی کے معاملات زیر بحث آئیں گے۔
حکومتی بیان کے مطابق پاکستان ان ملاقاتوں میں معاشی استحکام سے پائیدار، برآمدات اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کی جانب پیش رفت کا اپنا مؤقف پیش کرے گا۔ وزیر خزانہ آئی ایم ایف، عالمی بینک، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن اور کثیرالجہتی سرمایہ کاری ضمانتی ایجنسی کے حکام سے اصلاحات، نجی شعبے کی ترقی اور مستقبل کے تعاون پر تبادلہ خیال کرنے والے ہیں۔ یہ مجوزہ ملاقاتیں ہیں، ان کے نتیجے میں کسی نئے قرض، معاہدے یا سرمایہ کاری کی منظوری کی اطلاع ابھی نہیں دی گئی۔
وزارت نے سعودی عرب، چین، ترکی، ایران، برطانیہ اور تھائی لینڈ کے اقتصادی عہدیداروں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتوں کا منصوبہ بھی بتایا ہے۔ امریکا کے محکمہ خزانہ کے نمائندوں سے بھی اقتصادی تعاون اور پاکستانی اصلاحاتی ترجیحات پر بات چیت متوقع ہے۔ دیگر اداروں میں ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور مختلف ترقیاتی فنڈز شامل ہیں۔
حکومتی پروگرام میں فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی سمیت بڑی عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے ساتھ رابطے اور ڈیجیٹل معیشت کے موضوع پر علی بابا انٹرنیشنل ڈیجیٹل کامرس سے ملاقات بھی شامل ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ان مواقع پر پاکستانی معیشت، سرکاری مالیات، غیر ملکی شعبے، روزگار اور مالی شمولیت سے متعلق حکومتی ترجیحات اجاگر کی جائیں گی۔ ان اہداف کی عملی پیش رفت کا اندازہ اجلاسوں کے بعد طے پانے والے فیصلوں اور قابل تصدیق نتائج سے ہوگا۔
