برسلز: یورپی کمیشن نے اہم خام مال اور معدنیات کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے 46 نئے اسٹریٹجک منصوبے منتخب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کی 9 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق منتخب منصوبوں کو اجازت ناموں کے حصول میں تیزی اور سرکاری و نجی مالی وسائل تک رسائی کے لیے سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس فیصلے کا مقصد یورپی صنعتوں کے لیے ضروری معدنیات کی دستیابی میں تنوع پیدا کرنا اور بیرونی سپلائرز، بالخصوص چین، پر انحصار کم کرنا ہے۔
کمیشن کے مطابق منصوبے یورپی یونین کے 16 ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں اور 17 اسٹریٹجک خام مادوں کی فہرست میں سے 15 سے متعلق ہیں۔ ان میں لیتھیم، تانبا، نکل، کوبالٹ، مینگنیز، گریفائٹ، نایاب ارضی عناصر، میگنیشیم اور ٹنگسٹن شامل ہیں۔ یہ مواد بیٹریوں، گاڑیوں، قابل تجدید توانائی، فضائی صنعت اور دفاعی سازوسامان کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔
یورپی کمیشن نے ان منصوبوں کے لیے مجموعی سرمایہ جاتی ضرورت تقریباً 21.1 ارب یورو بتائی ہے، جو سرکاری اور نجی ذرائع سے حاصل کرنے کی توقع ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اسٹریٹجک منصوبے کا درجہ ملنے کا مطلب خودکار طور پر یورپی یونین کی مالی امداد مل جانا نہیں۔ کمیشن کے مطابق وہ مالی معاونت کے امکانات تک رسائی آسان بناتا اور منصوبہ ساز اداروں کو قرض دہندگان سے ملانے میں مدد دیتا ہے۔
منتخب منصوبوں میں جرمنی کا زنوالڈ لیتھیم منصوبہ، یونان کی اسکوریز کان، فن لینڈ میں مجوزہ ایلومینیم اسمیلٹر اور سویڈن کا وسکاریا تانبے کا منصوبہ شامل ہیں۔ یورپی صنعتی گروپوں سے وابستہ دیگر منصوبے بھی فہرست کا حصہ ہیں۔
یہ اقدام یورپی یونین کے 2024 کے کریٹیکل را میٹریلز ایکٹ سے منسلک ہے۔ اس قانون کے تحت 2030 تک سالانہ ضروریات کا 10 فیصد یورپ کے اندر کان کنی، 40 فیصد پراسیسنگ اور 25 فیصد ری سائیکلنگ سے پورا کرنے کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ گزشتہ سال 60 منصوبوں کا اعلان کیا گیا تھا جن میں یورپی یونین سے باہر کے 13 منصوبے بھی شامل تھے۔
روئٹرز کے مطابق گزشتہ مرحلے کے بعض منصوبوں کی رفتار سست رہی ہے اور مالی وسائل کی کمی کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ کمیشن نے کہا ہے کہ دو ارب یورو سے زیادہ کی سرکاری فنڈنگ متحرک کی جاچکی ہے، لیکن نئے منصوبوں کے لیے درکار پوری سرمایہ کاری ابھی یقینی نہیں۔ اس لیے منتخب منصوبوں کی عملی کامیابی اجازت ناموں، سرمایہ کاری اور تعمیراتی پیش رفت سے مشروط رہے گی۔
