سیئول: جنوبی کوریا نے آرکٹک سمندری راستے سے یورپ تک اپنے پہلے تجارتی بحری چکر کی تکمیل کا اعلان کیا ہے۔ روئٹرز کی 11 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق پان اسٹار ایکرو نامی کنٹینر جہاز 22 اگست کو روانہ ہونے کے 50 دن بعد اتوار کو بوسان کی بندرگاہ واپس پہنچا۔ حکام اسے ایک آزمائشی تجارتی سفر کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس سے شمالی سمندری راستے کی افادیت کا جائزہ لیا جاسکے گا۔
جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ آرکٹک کے راستے یورپ جانے سے روایتی بحری سفر کا وقت تقریباً ایک تہائی کم ہوسکتا ہے۔ صدر لی جے میونگ نے اس راستے کو اپنی بحری تجارتی ترجیحات میں شامل کیا ہے اور حکومت کی خواہش ہے کہ 2030 تک اس راستے پر باقاعدہ سروس شروع کی جائے۔ یہ مستقبل کا ہدف ہے، فی الحال مستقل تجارتی لائن کے قیام کی تصدیق نہیں ہوئی۔
جہاز نے جاتے ہوئے آرکٹک پانیوں سے گزر کر برطانیہ کی فیلکس اسٹو بندرگاہ پر پہلا یورپی پڑاؤ کیا۔ اس کے بعد نیدرلینڈز کے روٹرڈیم اور پولینڈ کے گدانسک کا رخ کیا اور واپسی بھی شمالی راستے سے کی۔ اس تجربے سے جہاز رانی کے عملی مسائل، مختلف بندرگاہوں پر مال کی نقل و حمل اور موسم سے متعلق چیلنجوں کا اندازہ لگانے کا موقع ملا۔
آرکٹک راستہ روس کے شمالی ساحل کے ساتھ گزرتا ہے۔ روئٹرز کے مطابق جنوبی کوریا نے سفر کے انتظامات اور ممکنہ برفانی مشکلات میں مدد کے سوال پر روس سے مشاورت کی۔ اس پہلو کی سفارتی اہمیت بھی ہے کیونکہ یوکرین کی جنگ کے باعث مغربی ممالک روس کے ساتھ اقتصادی روابط محدود کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
آزمائشی سفر کے آغاز میں پان اسٹار تقریباً تیرہ سو بیس فٹ مساوی کنٹینر یونٹ، یعنی ٹی ای یو، مال لے جانے کی کوشش کررہی تھی لیکن جہاز 737 ٹی ای یو مال اور خالی کنٹینروں کے ساتھ روانہ ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف مختصر راستہ ہونا تجارتی کامیابی کی ضمانت نہیں۔
ماہرین کے مطابق آرکٹک سفر کی معاشی افادیت کے لیے باقاعدہ اور قابل اعتماد شیڈول، برف سے بچنے کے دوران رفتار میں کمی، خصوصی بیمے کے اخراجات اور اضافی ایندھن کی ضرورت کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ حکام کے لیے اگلا مرحلہ اس تجربے کے عملی نتائج اور تجارتی لاگت کا جائزہ ہے، جس کے بعد مستقل سروس کی منصوبہ بندی کی جاسکے گی۔
