نیروبی: نائجیریا کی ڈانگوٹے ریفائنری کی حصص کی بڑی عوامی پیشکش نے افریقی ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے ضابطوں میں فرق اور سرحد پار سرمایہ کاری کی مشکلات کو نمایاں کردیا ہے۔ روئٹرز کی 9 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق 1.6 ارب ڈالر کی پیشکش کو پورے براعظم کے سرمایہ کاروں کے لیے موقع قرار دیا گیا تھا، لیکن متعلقہ پراسپیکٹس کے مطابق اسے نائجیریا سے باہر عمومی عوامی پیشکش کے طور پر رجسٹر نہیں کرایا گیا تھا۔

اس صورت حال کے باعث دوسرے افریقی ممالک میں رہنے والے سرمایہ کاروں کو اپنے ملک کے سکیورٹیز قوانین، مقامی اجازت ناموں اور محدود دستیاب مالی پلیٹ فارموں پر انحصار کرنا پڑا۔ نائجیریا کے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی منظوری اپنی قانونی حدود میں مؤثر تھی، لیکن اس سے دوسرے ملکوں میں خودکار طور پر حصص فروخت کرنے کی اجازت نہیں ملتی۔

ڈانگوٹے ریفائنری کے اکثریتی مالک علیکو ڈانگوٹے نے روئٹرز سے گفتگو میں مختلف ملکوں کے قواعد سے پیدا ہونے والی مشکلات کو ابتدائی نوعیت کے مسائل قرار دیا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس تجربے سے افریقی مالیاتی منڈیوں کے ضابطوں میں بہتر تعاون کی راہ نکلے گی۔ ڈانگوٹے نے بتایا کہ وہ ریفائنری میں ایک کروڑ شیئر ہولڈرز دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ کمپنی کی خواہش ہے، مکمل ہوچکا نتیجہ نہیں۔

روئٹرز کے مطابق کینیا نے اس حصص پیشکش سے منسلک گلوبل ڈپازٹری رسیدوں کی عوامی فروخت کی منظوری اس وقت دی جب سبسکرپشن کی مدت ختم ہونے میں صرف آٹھ دن باقی تھے۔ بعض ممکنہ سرمایہ کار اس تاخیر کے باعث حصہ نہ لے سکے۔ روانڈا میں بھی سرمایہ کاروں کو درخواست دینے سے پہلے مقامی نگران ادارے میں اندراج جیسی اضافی شرائط کا سامنا کرنا پڑا۔

پراسپیکٹس میں دوسرے افریقی ممالک کے سرمایہ کاروں کے لیے صرف دو بروکریج چینل درج تھے، جبکہ نائجیریا میں حصص خریدنے کے لیے بینکوں، بروکرز اور تجارتی ایپس سمیت 53 راستے دستیاب تھے۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے صنعتی منصوبے میں دلچسپی موجود ہونے کے باوجود سرمایہ کاری تک عملی رسائی یکساں نہیں۔

افریقہ میں آزاد تجارت اور معاشی انضمام کی کوششیں جاری ہیں، مگر سرمایہ منڈیوں کے لیے مشترکہ ریگولیٹری نظام کی کمی اب بھی مسئلہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پیشکش نے مقامی بچت کو صنعتی منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت ضرور دکھائی ہے، لیکن علاقائی سطح پر سرمایہ کاروں کی شمولیت بڑھانے کے لیے قواعد اور مالیاتی ڈھانچے میں مزید ہم آہنگی درکار ہوگی۔