اسلام آباد: وفاقی حکومت نے معیشت میں نجی شعبے کا کردار بڑھانے کے لیے نجکاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس (پی پی پیز) کو اہم پالیسی ذرائع کے طور پر آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں ’’موبلائزنگ پرائیویٹ کیپیٹل: نیشنل اسٹریٹجک ڈائیلاگ آن پی پی پیز اینڈ پرائیویٹائزیشن‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ینگ منگ یانگ اور وفاقی و صوبائی حکام نے شرکت کی۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام برقرار رکھتے ہوئے معیشت کو استحکام کے مرحلے سے پائیدار نمو کی طرف منتقل کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق ساختی اصلاحات کا تسلسل ضروری ہے اور نجی شعبے کی شرکت کو نجکاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے مضبوط کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مالیاتی نظم اور حکومتی اخراجات میں بہتری کو بھی وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ قرار دیا۔

اورنگزیب کے مطابق گزشتہ ڈھائی سے تین برس میں ساختی نوعیت کے دو بڑے خساروں کے مجموعی دباؤ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے ایف بی آر میں افراد، عمل اور ٹیکنالوجی کی سطح پر تبدیلیوں اور محصولات میں اضافے کو مالیاتی بہتری کے عوامل میں شمار کیا۔ یہ اعداد اور ان کی تشریح وزیر خزانہ کی تقریر کا حصہ ہیں اور ان کا مقصد حکومت کے معاشی پروگرام کی پیش رفت بیان کرنا تھا۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ حکومت معاشی نمو کی باگ ڈور زیادہ حد تک نجی شعبے کے حوالے کرنے کی سمت بڑھ رہی ہے۔ قومی ڈائیلاگ میں پاکستان پی پی پی مانیٹر بھی متعارف کرایا گیا، جس کا مقصد ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں اور متعلقہ پالیسی ماحول کے بارے میں معلومات اور نگرانی بہتر بنانا ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ محدود سرکاری مالی گنجائش کے ماحول میں بنیادی ڈھانچے اور خدمات کے لیے نجی سرمایہ متحرک کرنا ضروری ہے۔ تاہم نجکاری اور پی پی پی منصوبوں کے نتائج کا انحصار شفاف مسابقت، معاہدوں کی مضبوط نگرانی، مالی خطرات کی درست تقسیم اور صارفین و عوامی مفاد کے تحفظ پر ہوگا۔ تقریب میں کسی ایک نئے بڑے سرکاری ادارے کی فروخت مکمل ہونے یا کسی مخصوص پی پی پی منصوبے کے مالی اختتام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کے ساتھ نجی سرمایہ، بنیادی ڈھانچے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے شعبوں میں تعاون بڑھا رہا ہے۔ تازہ ڈائیلاگ پالیسی سمت اور سرمایہ کاری کے فریم ورک کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔ آئندہ مرحلے میں اس عزم کی عملی پیمائش نجکاری کے شفاف لین دین، قابل عمل پی پی پی منصوبوں، سرمایہ کاری کے حجم اور سرکاری مالی ذمہ داریوں میں حقیقی کمی سے ہوگی۔