کینبرا: آسٹریلیا نے اپنے ذیلی انٹارکٹک علاقے میکوری جزیرے پر پہلی مرتبہ H5N1 برڈ فلو کی تصدیق کردی ہے، جہاں انتہائی مہلک ایویئن انفلوئنزا وائرس جنوبی ایلیفنٹ سیل اور ایک کیلپ گل کے نمونوں میں پایا گیا۔ رائٹرز کے مطابق آسٹریلیا کی چیف ویٹرنری آفیسر بیتھ ککسن نے بتایا کہ سرکاری ٹیسٹنگ نے دونوں نمونوں میں وائرس کی تصدیق کی اور یہ میکوری جزیرے پر H5 وائرس کا پہلا ریکارڈ شدہ واقعہ ہے۔
میکوری جزیرہ جنوبی سمندر میں تسمانیہ اور انٹارکٹیکا کے درمیان واقع یونیسکو عالمی ورثہ مقام ہے اور جنوبی ایلیفنٹ سیلز کی افزائش کے لیے اہم خطہ سمجھا جاتا ہے۔ ان بڑے سمندری ممالیہ جانوروں میں H5 برڈ فلو کے اثرات شدید ہوسکتے ہیں۔ آسٹریلوی وفاقی حکومت کے مطابق بعض متاثرہ آبادیوں میں بچوں کی ہلاکت کی شرح 90 فیصد سے بھی زیادہ دیکھی گئی ہے، جس کے باعث افزائش کے موسم میں بڑے پیمانے پر نقصان کا خدشہ موجود ہے۔
آسٹریلیا میں برڈ فلو کی موجودگی اس سے پہلے بھی ذیلی انٹارکٹک علاقوں میں سامنے آچکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 کے آخر میں ہرڈ آئی لینڈ پر وائرس پایا گیا تھا، جہاں مقامی میڈیا نے 13 ہزار سے زائد سیل بچوں کی ہلاکت کی اطلاع دی۔ جون 2026 میں آسٹریلیا آخری براعظم بنا جہاں برڈ فلو کی موجودگی رپورٹ ہوئی۔ تازہ تصدیق میکوری جزیرے کی حساس جنگلی حیات کے لیے خطرے کو مزید واضح کرتی ہے۔
آسٹریلیا کے محکمہ ماحولیات نے اگست میں کہا تھا کہ ممکنہ H5 ایویئن انفلوئنزا پھیلاؤ کے نفسیاتی اور عملی خطرات کے باعث میکوری جزیرے کے ایک تحقیقی اسٹیشن سے عملہ واپس بلایا جائے گا۔ ماہرین نے پیش گوئی کی تھی کہ آنے والے افزائشی موسم میں وائرس ایلیفنٹ سیلز میں نمایاں اموات کا سبب بن سکتا ہے۔
حکام کی تازہ تصدیق جنگلی حیات کی نگرانی، حیاتیاتی تحفظ اور بیماری کے پھیلاؤ کے راستوں کی جانچ کے لیے اہم ہے۔ رپورٹ میں انسانوں میں کسی انفیکشن یا مقامی آبادی کے لیے فوری انسانی صحت کے خطرے کی اطلاع نہیں دی گئی۔ اس مرحلے پر توجہ جزیرے کی جنگلی حیات، خصوصاً ایلیفنٹ سیلز کی افزائشی آبادی پر ممکنہ اثرات اور وائرس کی مزید نگرانی پر مرکوز ہے۔
