ڈھاکا: بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی سیاحتی علاقے کاکس بازار میں انانی سی بیچ کے ایک ریزورٹ میں ہفتے کی صبح آگ لگنے سے کم از کم 10 افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔ بنگلہ دیشی فائر سروس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آگ لکڑی سے بنے ایک ریزورٹ اور ریسٹورنٹ میں لگی، جہاں امدادی کارروائی کے لیے فائر فائٹنگ کے دو یونٹس، مقامی انتظامیہ اور پولیس موقع پر پہنچے۔

ایکسپریس ٹریبیون میں شائع انادولو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بارڈر گارڈ بنگلہ دیش کے اہلکار بھی ریسکیو آپریشن میں شامل ہوئے۔ فائر سروس نے بتایا کہ آگ پر مکمل طور پر قابو پالیا گیا۔ مقامی ٹی وی رپورٹ کے مطابق آگ صبح سویرے اس وقت لگی جب متعدد افراد سو رہے تھے، جس کے باعث جانی نقصان زیادہ ہوا۔ متاثرہ افراد کے بارے میں ابتدائی طور پر خیال کیا گیا کہ وہ سیاح تھے کیونکہ انانی کا ساحلی علاقہ ملک کے معروف سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

ہلاک اور زخمی افراد کی شناخت خبر کی اشاعت تک مکمل طور پر واضح نہیں کی گئی تھی۔ حکام نے بھی تمام متاثرین کی شناخت کی حتمی تفصیل جاری نہیں کی، اس لیے ابتدائی اعداد اور شناخت سے متعلق معلومات میں تحقیقات کے دوران تبدیلی ممکن ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا، تاہم ان کی انفرادی حالت کے بارے میں رپورٹ میں تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

آگ کی وجہ کے بارے میں بھی ابھی کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ مقامی رپورٹ میں امکان ظاہر کیا گیا کہ آگ ریزورٹ کے باورچی خانے کے چولہے یا بجلی کے شارٹ سرکٹ سے شروع ہوسکتی ہے، لیکن حکام نے اس مفروضے کی تصدیق نہیں کی۔ ضلع انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو آگ کے آغاز، عمارت کی حفاظتی صورتحال اور ممکنہ انتظامی کوتاہیوں کا جائزہ لے گی۔

کاکس بازار بنگلہ دیش کا بڑا ساحلی سیاحتی مرکز ہے جہاں مقامی اور غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ لکڑی کی تعمیرات میں آگ تیزی سے پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے، لیکن اس مخصوص واقعے میں حفاظتی ضابطوں کی خلاف ورزی یا ذمہ داری کے بارے میں کسی فرد یا ادارے کو تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے قصوروار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حکام کی تحقیق سے ہی حادثے کی حتمی وجہ اور ذمہ داری کا تعین ہوگا۔