پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا نے دوحہ میں کثیرملکی دفاعی تعاون کی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جسے ’بدر‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ترکیہ کی وزارت دفاع اور قطر کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق اس فریم ورک کا مقصد دفاعی پیداوار، فوجی صلاحیتوں، تکنیکی تربیت، تحقیق و ترقی اور صنعتی تعاون کو آگے بڑھانا ہے۔ پاکستان کی نمائندگی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی۔

ڈان اور رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دستخط کی تقریب قطر میں ہوئی، جہاں چاروں ممالک کے متعلقہ نمائندے شریک تھے۔ پاکستانی وزیر دفاع کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون کو اہمیت دیتا ہے اور اس یادداشت کے ذریعے خود انحصاری، صنعتی اشتراک، مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے امکانات تلاش کیے جائیں گے۔ بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ تعاون متعلقہ قومی اور بین الاقوامی قوانین و ضوابط کے مطابق آگے بڑھے گا۔

ترکیہ کی وزارت دفاع کے مطابق ’بدر‘ یادداشت دفاعی تعاون اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ ترک حکام نے اس کے اقتصادی پہلو کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ چاروں ملک اپنی اپنی دفاعی صنعتی صلاحیتوں کو یکجا کر کے فوجی پیداوار، تکنیکی تربیت اور تحقیق و ترقی میں تعاون بڑھا سکتے ہیں۔ ترکیہ کی دفاعی صنعت کے ادارے کے سربراہ ہالوک گورگن نے اسے مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی پر مبنی اسٹریٹجک تعاون کی بنیاد قرار دیا۔

قطری سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یادداشت کا نام ’بدر‘ یعنی پورے چاند کی نسبت سے رکھا گیا، جس کا مقصد چاروں ممالک کی تکمیلی صلاحیتوں کی علامت پیش کرنا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ طے شدہ معیار کے تحت مستقبل میں دیگر دوست ممالک کے لیے اس فریم ورک میں شمولیت کی گنجائش موجود ہو سکتی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے ساتھ حالیہ مہینوں میں دفاعی اور سفارتی روابط بڑھائے ہیں۔ تاہم مفاہمتی یادداشت بذات خود کسی مخصوص ہتھیار، مشترکہ منصوبے یا خریداری کے حتمی معاہدے کے برابر نہیں؛ اس کے عملی نتائج کا انحصار بعد کے منصوبوں، مالی انتظامات، تکنیکی شرائط اور متعلقہ حکومتوں کی منظوریوں پر ہو گا۔