پیرس: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر غیر ملکی رہنماؤں کی جانب سے فرانس میں حالیہ بدامنی اور فسادات کو مسلمان تارکین وطن سے جوڑنے والے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق میکرون نے کہا کہ بیرونی رہنما فرانس کے اندرونی حالات کو اپنی سیاسی بحث کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

فرانس میں حالیہ احتجاج اور پرتشدد واقعات نے ملک کے اندر امن و امان، سماجی ناہمواری، پولیسنگ اور سیاسی تقسیم سے متعلق بحث کو دوبارہ نمایاں کیا ہے۔ بعض غیر ملکی سیاست دانوں نے بدامنی کی وجہ امیگریشن اور مسلم آبادی کو قرار دینے کی کوشش کی، لیکن میکرون نے اس عمومی نسبت کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیچیدہ داخلی بحران کو ایک مذہبی یا نسلی گروہ سے منسوب کرنا حقائق کی درست تصویر نہیں دیتا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق میکرون نے بالخصوص ٹرمپ کے تبصروں پر تنقید کی۔ فرانسیسی حکومت کا مؤقف ہے کہ فسادات میں شریک افراد اور مجرمانہ کارروائیوں کی ذمہ داری انفرادی شواہد اور قانون کے مطابق طے ہونی چاہیے، نہ کہ پوری تارک وطن یا مذہبی برادری کو اجتماعی طور پر مورد الزام ٹھہرایا جائے۔ اس معاملے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے مؤقف ایک دوسرے سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔

فرانس کئی برس سے امیگریشن، سیکولرازم، مذہبی آزادی اور قومی شناخت سے متعلق شدید سیاسی مباحث کا مرکز رہا ہے۔ ایسے ماحول میں سکیورٹی واقعات کے بعد مسلمان شہریوں اور تارکین وطن سے متعلق عمومی دعوے داخلی سیاست کے ساتھ بین الاقوامی سیاسی بیان بازی کا حصہ بھی بن جاتے ہیں۔ میکرون کا تازہ ردعمل اسی وسیع تر تناظر میں سامنے آیا ہے۔

یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ کسی احتجاج یا فساد میں مخصوص افراد کی ممکنہ شمولیت سے پوری آبادی، مذہب یا مہاجر برادری کی اجتماعی ذمہ داری ثابت نہیں ہوتی۔ اسی طرح حکومت کی جانب سے غیر ملکی دعووں کی تردید کا مطلب یہ بھی نہیں کہ فرانس میں امیگریشن یا انضمام سے متعلق حقیقی پالیسی چیلنج موجود نہیں۔ دونوں معاملات کو الگ شواہد اور اعدادوشمار کی بنیاد پر جانچنا ضروری ہے۔

میکرون کے بیان سے فرانس اور بعض غیر ملکی رہنماؤں کے درمیان سیاسی بیان بازی مزید تیز ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب یورپ میں امیگریشن آئندہ انتخابی مباحث کا مرکزی موضوع بنی ہوئی ہے۔ فوری طور پر اس ردعمل کے نتیجے میں کسی سفارتی اقدام یا پالیسی تبدیلی کا اعلان سامنے نہیں آیا۔