امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھارت کے دورے کے دوران پاکستان کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات کا دفاع کرتے ہوئے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو نمایاں کیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق ایک بھارتی میڈیا ادارے کو انٹرویو میں روبیو نے امریکا اور پاکستان کے روابط کو خطے کی عملی سفارتی ضروریات کے تناظر میں بیان کیا۔

روبیو نے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ امریکا کا پاکستان کے ساتھ رابطہ لازماً بھارت کے ساتھ تعلقات کے خلاف سمجھا جائے۔ انہوں نے بھارت کے ایران سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ریاستیں اپنے جغرافیائی اور قومی مفادات کے مطابق مختلف شراکت داروں سے روابط رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کا محل وقوع اسے علاقائی معاملات میں ایک اہم ملک بناتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کے یہ ریمارکس ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن بیک وقت بھارت کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری اور پاکستان کے ساتھ سلامتی، علاقائی استحکام اور دیگر معاملات پر روابط برقرار رکھے ہوئے ہے۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ کشیدگی کے باعث امریکی حکام کے دونوں ممالک سے تعلقات کے بارے میں بیانات کو خاص سفارتی اہمیت دی جاتی ہے۔

روبیو نے دہشت گردی کے حوالے سے بھی امریکا کا عمومی مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے۔ انٹرویو میں ایران سے متعلق گفتگو بھی ہوئی اور انہوں نے تہران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کو مشکل قرار دیا۔ یہ بیانات امریکی پالیسی کی وضاحت ہیں، کسی نئے پاکستان امریکا معاہدے یا اتحاد کا اعلان نہیں۔

پاکستان اور امریکا کے تعلقات مختلف ادوار میں سکیورٹی تعاون، افغانستان، تجارت اور علاقائی سیاست کے باعث اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے تعلقات کو صرف ایک سکیورٹی زاویے تک محدود رکھنے کے بجائے تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی سمیت وسیع شعبوں میں روابط بڑھانے کی بات کی ہے۔

روبیو کا بیان اس امریکی سفارتی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود پاکستان کے ساتھ رابطے کی اپنی علاقائی منطق موجود ہے۔ اس بیان کے عملی اثرات کا تعین مستقبل کے اعلیٰ سطحی رابطوں، پالیسی فیصلوں اور جنوبی ایشیا کی بدلتی سکیورٹی صورتحال سے ہوگا۔