اسلام آباد: بحرین نے پاکستان اور خلیجی تعاون کونسل، جی سی سی، کے درمیان آزاد تجارت کے مجوزہ معاہدے کی منظوری کا عمل تیز کرنے کے لیے کام کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی نے آٹھ اکتوبر کو اسلام آباد میں پاکستان اور بحرین کے مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے بعد یہ بات کہی۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بحرینی وزیر خارجہ نے کی۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق بحرینی وزیر خارجہ دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تھے۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ بحرینی وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزاد تجارت سے متعلق معاہدے کی منظوری کے مراحل کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم ان کے بیان کو معاہدے کے نافذ ہو جانے کی تصدیق نہیں سمجھنا چاہیے۔
خلیجی تعاون کونسل کے ساتھ آزاد تجارتی بندوبست پاکستانی برآمد کنندگان اور خلیجی منڈیوں کے درمیان تجارتی روابط کے تناظر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ ایسے معاہدوں کے عملی اثرات متعلقہ رکن ممالک کی منظوری، طے ہونے والی شرائط اور نفاذ کے انتظامی مراحل سے وابستہ ہوتے ہیں۔ فی الحال رپورٹ میں کسی مخصوص نفاذی تاریخ یا نئی تجارتی رعایت کے فوری آغاز کی تصدیق نہیں کی گئی۔
مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس دو طرفہ امور پر رابطوں کے لیے ایک باقاعدہ فورم فراہم کرتا ہے۔ اس موقع پر تجارتی اور اقتصادی روابط کے ساتھ خطے کی صورتحال پر بھی بات ہوئی۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے آبنائے ہرمز اور باب المندب سے متعلق بحرانوں کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ ان سمندری راستوں کی صورتحال تجارت اور نقل و حمل کے حوالے سے اہم ہے، تاہم اجلاس کے بعد کسی مخصوص مشترکہ عملی اقدام کا اعلان اس خبر میں واضح نہیں ہوا۔
اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت سے اس امر کا اظہار ہوا کہ پاکستان اور بحرین موجودہ سفارتی رابطوں کو اقتصادی تعاون سے جوڑنا چاہتے ہیں۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار آزاد تجارتی معاہدے کی باقاعدہ توثیق اور متعلقہ اداروں کے فیصلوں پر ہوگا، نہ کہ محض منظوری کا عمل تیز کرنے کی یقین دہانی پر۔
