اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کے صارفین سے اکتوبر 2026 کے بلوں میں اگست کی ایندھن لاگت کی مد میں اضافی رقم وصول کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ ڈان کی آٹھ اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق منظور شدہ مثبت فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ تقریباً ایک روپے 11 پیسے فی یونٹ، یعنی 1.1086 روپے فی کلوواٹ گھنٹہ، ہے۔ اس سے صارفین پر مجموعی طور پر تقریباً 16 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا اندازہ ہے۔
ریگولیٹر کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ ایڈجسٹمنٹ کے الیکٹرک اور سابق واپڈا کی تقسیم کار کمپنیوں کے متعلقہ صارفین کے اکتوبر کے بلوں میں شامل ہوگی۔ البتہ لائف لائن صارفین، الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنوں اور پیشگی ادائیگی والے ٹیرف کو اختیار کرنے والے صارفین کی متعلقہ اقسام کو استثنا حاصل ہوگا۔ نیپرا کے مطابق اضافی بجلی استعمال کرنے کے ترغیبی پیکیج سے فائدہ اٹھانے والے صارفین پر بھی یہ فیول ایڈجسٹمنٹ لاگو ہوگی۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے اگست کے لیے ایندھن کی اصل اوسط لاگت مقررہ حوالہ جاتی لاگت سے زیادہ بتاتے ہوئے تقریباً ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ اضافی وصولی کی درخواست کی تھی۔ تاہم نیپرا نے بعض ایڈجسٹمنٹس کے بعد قابل قبول ایندھن لاگت کم مقرر کی اور درخواست کردہ پورے اضافے کے بجائے تقریباً ایک روپے 11 پیسے کی اجازت دی۔ اس فرق سے واضح ہوتا ہے کہ ابتدائی درخواست اور حتمی ریگولیٹری فیصلہ ایک جیسے نہیں تھے۔
رپورٹ کے مطابق اگست میں مہنگی درآمدی ایل این جی، کوئلے کی اضافی درآمد اور نسبتاً کم پن بجلی و جوہری پیداوار نے ایندھن کے اخراجات بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ قطری گیس کی بعض معاہدہ شدہ فراہمی فورس میژر کے تحت متاثر ہونے کے باعث اسپاٹ مارکیٹ سے گیس حاصل کی گئی۔ پن بجلی کا حصہ متوقع سطح سے کم رہا، جبکہ کراچی میں جوہری بجلی گھروں کی بندش کی وجہ سے جوہری پیداوار بھی تخمینے سے نیچے رہی۔
یہ اضافہ بنیادی بجلی ٹیرف میں مستقل ردوبدل کے بجائے مخصوص مہینے کی ایندھن لاگت کی ایڈجسٹمنٹ ہے۔ ہر صارف کے بل پر اصل اثر اس کے استعمال شدہ یونٹس، قابل اطلاق ٹیرف اور استثنا کی حیثیت کے مطابق مختلف ہوگا۔ صارفین کے لیے ضروری ہے کہ اکتوبر کے بل میں متعلقہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی علیحدہ درج رقم دیکھی جائے۔
