لندن: برطانیہ کے لیے سرکاری قرض کی لاگت میں آٹھ اکتوبر کو ایک اور نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جب دس سالہ سرکاری بانڈز کی پیداوار جولائی 2007 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ رائٹرز کے مطابق تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے اور عالمی بانڈ مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر فروخت کے باعث برطانوی قرض کے طویل مدتی مالیاتی اشاریے دباؤ کا شکار ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق دس سالہ برطانوی گلٹ کی پیداوار 5.527 فیصد تک گئی، جو ایک ہی روز میں سات سے زیادہ بیسس پوائنٹس کے اضافے کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس نے گزشتہ ہفتے ریکارڈ کی گئی 5.51 فیصد کی حالیہ بلند سطح بھی عبور کر لی۔ دس سالہ بانڈز برطانیہ کی نئی حکومتی قرض گیری میں ایک اہم مدت رکھتے ہیں، اس لیے ان کی پیداوار سرکاری فنانسنگ کی لاگت کا نمایاں اشارہ ہے۔
صرف دس سالہ بانڈ ہی متاثر نہیں ہوئے۔ رائٹرز کے مطابق بیس سالہ سرکاری بانڈ کی پیداوار چھ فیصد اور تیس سالہ بانڈ کی پیداوار 6.05 فیصد تک پہنچ گئی۔ دونوں سطحیں 1998 کے اوائل کے بعد بلند ترین شمار کی گئیں۔ ان میں بھی تقریباً سات بیسس پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا اور امریکی ٹریژری مارکیٹ میں بھی اسی نوعیت کا دباؤ سامنے آیا۔
اس پیش رفت کا ایک اہم پس منظر خام تیل کی قیمتوں کا تیز اتار چڑھاؤ ہے۔ خلیج میں جہاز رانی پر حملوں اور امریکہ میں سمندری طوفان کے نتیجے میں تیل کی پیداوار اور فراہمی میں خلل کے خدشات سے توانائی کی منڈی متاثر ہوئی۔ رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل جمعرات کو تقریباً پانچ فیصد بڑھ کر 105 ڈالر فی بیرل ہو گیا، جو 29 ستمبر کے بعد اس کی بلند ترین سطح تھی۔
جب توانائی مہنگی ہونے سے مستقبل کی افراط زر کے اندازے بڑھتے ہیں تو سرمایہ کار حکومتی قرض پر زیادہ شرح منافع کا تقاضا کر سکتے ہیں۔ بانڈ کی قیمت اور اس کی پیداوار عموماً ایک دوسرے کے مخالف سمت حرکت کرتی ہیں، اس لیے بانڈز کی فروخت سے ان کی پیداوار بڑھ سکتی ہے۔ برطانیہ جیسے ملک کے لیے اس تبدیلی کا مطلب مستقبل میں بعض نئی قرض گیری پر زیادہ خرچ کا دباؤ ہو سکتا ہے، اگرچہ ہر موجودہ قرض پر شرح سود فوری طور پر تبدیل نہیں ہوتی۔
موجودہ صورتحال میں عالمی توانائی کے خطرات اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں کے رجحانات ایک دوسرے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ بانڈ کی پیداوار میں ایک روزہ یا چند روزہ اضافہ کسی حتمی حکومتی فیصلے کا اعلان نہیں، بلکہ مارکیٹ کی قیمتوں میں تبدیلی ہے۔ آئندہ سمت کے تعین میں تیل کی رسد، مہنگائی کے نئے اعداد و شمار اور سرمایہ کاروں کی توقعات اہم رہیں گی۔
