ابوجا: عالمی بینک نے نائجیریا کے معاشی امکانات سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ 2028 تک ملک کی معیشت اوسطاً سالانہ 4.4 فیصد بڑھ سکتی ہے۔ آٹھ اکتوبر کو جاری کردہ نائجیریا ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ کے مطابق اس منظرنامے کا دارومدار حکومتی اصلاحات جاری رہنے اور عوام کو سرکاری خدمات کی فراہمی بہتر بنانے پر ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کے اہم نتائج اور حکومتی مؤقف کی تفصیل شائع کی ہے۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی سبسڈی ختم کرنے اور شرح مبادلہ سے متعلق تبدیلیوں سمیت حالیہ اصلاحات سے ریاستی حکومتوں کو دستیاب محصولات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے سے مقامی حکومتوں کے پاس سڑکوں اور دوسرے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ تعلیم اور صحت پر زیادہ خرچ کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ تاہم زیادہ وسائل کی دستیابی خودبخود بہتر خدمات یا غربت میں کمی کی ضمانت نہیں؛ رقم کہاں اور کس مؤثریت سے استعمال ہوتی ہے، اس کی بھی اہمیت ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں نائجیریا کی معیشت 4.2 فیصد بڑھی، جبکہ 2025 میں مجموعی شرح نمو 3.9 فیصد رہی تھی۔ اقتصادی سرگرمی میں اضافے کے اہم محرکات خدمات اور زرعی شعبے تھے۔ عالمی بینک نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر مثبت رجحان برقرار رہا تو مہنگائی تقریباً 15 فیصد سے کم ہو کر 2028 تک 12 فیصد کے آس پاس آ سکتی ہے۔ یہ تخمینے ہیں اور ان کا پورا ہونا مستقبل کی معاشی صورت حال پر منحصر ہے۔

رپورٹ کے اجراء کے موقع پر نائجیریا کے وزیر خزانہ اور معیشت کے رابطہ کار تائیوو اوییدیلی نے کہا کہ اصلاحات سے معیشت میں استحکام آیا اور تیز ترقی کی بنیاد بن رہی ہے۔ ان کے مطابق ملکی معیشت کی شرح نمو آبادی میں اضافے کی رفتار سے زیادہ ہے، جس کا تسلسل غربت گھٹانے میں مدد دے سکتا ہے۔ انہوں نے روزگار پیدا کرنے والی اور نجی شعبے کی قیادت میں ہونے والی ترقی کو حکومتی ترجیح قرار دیا۔

عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران ریاستوں کی حقیقی آمدن تقریباً 93 فیصد بڑھی۔ ادارے نے اس کے باوجود خبردار کیا کہ زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اخراجات کی کارکردگی میں اضافہ اور انسانی سرمائے، خصوصاً تعلیم و صحت، میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ رپورٹ کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ معاشی اصلاحات سے حاصل ہونے والے مالی فوائد عام شہری تک پہنچانے کے لیے عملی حکمرانی اور خدمات کے معیار میں بہتری ناگزیر ہوگی۔