جنیوا: عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) نے آٹھ اکتوبر کو عالمی اشیا کی تجارت کے حجم میں 2026 کی متوقع شرح نمو بڑھا کر 3.9 فیصد کر دی ہے۔ تنظیم کے مطابق مصنوعی ذہانت سے متعلق مصنوعات، سیمی کنڈکٹرز اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے سازوسامان کی طلب نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تجارتی نقل و حمل کی رکاوٹوں کے باوجود سامان کی بین الاقوامی تجارت کو توقع سے زیادہ سہارا دیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ڈبلیو ٹی او نے مارچ میں 2026 کے لیے اشیا کی تجارت میں 1.9 فیصد اضافے کا بنیادی تخمینہ جاری کیا تھا، جسے اب بڑھایا گیا ہے۔ تنظیم کو 2027 میں 4.1 فیصد ترقی کی توقع ہے، جبکہ پہلے 2.6 فیصد کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ رپورٹ میں 2025 کے لیے اشیا کی تجارت کے حجم میں 4.2 فیصد نمو کا حوالہ بھی دیا گیا۔ یہ اعداد حجم سے متعلق ہیں اور انہیں تجارت کی ڈالر میں مالیت کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔

تنظیم کے تجزیے کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعات کی تجارت میں ایک سال کے مقابلے میں تقریباً 67 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ 2026 کی پہلی ششماہی میں اشیا کی عالمی تجارت کی مالیت میں مجموعی اضافے کا تقریباً 47 فیصد حصہ ایسی مصنوعات سے متعلق رہا جو مصنوعی ذہانت کے استعمال کو ممکن بناتی ہیں۔ تاہم اس طلب کا جغرافیائی پھیلاؤ محدود رہا اور اس سے تمام معیشتوں کو یکساں فائدہ نہیں پہنچا۔

اشیا کے مقابلے میں خدمات کی تجارت کا منظرنامہ کمزور ہوا ہے۔ ڈبلیو ٹی او نے 2026 کے لیے خدمات کی تجارت کی نمو کا تخمینہ 4.8 فیصد سے کم کر کے 3.3 فیصد کیا۔ اس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث فضائی ایندھن کی بلند قیمتیں اور نقل و حمل و سیاحت پر دباؤ ہیں۔ نقل و حمل کی خدمات میں صرف 0.9 فیصد اور سفری خدمات میں 0.2 فیصد نمو کی پیش گوئی کی گئی، جبکہ 2027 میں مجموعی خدمات کی تجارت کے 6.4 فیصد بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق عالمی مجموعی پیداوار میں 2026 کے لیے 2.6 فیصد اضافے کا تخمینہ ہے۔ ایشیا میں شرح نمو 4.3 فیصد متوقع ہے جبکہ مشرق وسطیٰ کی پیداوار میں چار فیصد کمی کا اندیشہ ظاہر کیا گیا۔ اشیا کی تجارت کے لحاظ سے ایشیا کی درآمدات اور برآمدات میں بالترتیب 9.5 اور 9.9 فیصد اضافہ متوقع بتایا گیا، جبکہ مشرق وسطیٰ کے لیے دونوں میں نمایاں کمی کی پیش گوئی ہے۔

ڈبلیو ٹی او نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں سے توانائی اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ، روس اور یوکرین کی جنگ اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کی ممکنہ سست روی آنے والے تخمینوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے بلند تر پیش گوئی کو عالمی تجارت کے تمام مسائل کے خاتمے کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔