اسلام آباد: بحرین نے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے کی منظوری اور دستخط کے عمل کو تیز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ بیان آٹھ اکتوبر کو اسلام آباد میں پاکستان اور بحرین کے مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے بعد سامنے آیا۔

بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس بریفنگ میں بتایا کہ ان کا ملک خلیج تعاون کونسل کی صدارت کر رہا ہے اور اسی حیثیت سے مجوزہ معاہدے کی تکمیل میں پیش رفت چاہتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے پر کام جاری ہے؛ اس موقع پر اسے دستخط شدہ یا نافذ العمل قرار نہیں دیا گیا۔

مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں دونوں ملکوں نے پندرہ سے زیادہ شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا۔ فریقین نے تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا، جبکہ توانائی سے متعلق ورکنگ گروپ کا اجلاس اگلے ماہ منعقد کرنے کی بات بھی ہوئی۔ تیل، گیس اور معدنیات کے ساتھ خوراک، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم، افرادی قوت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تعاون کے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ملک ادارہ جاتی رابطوں کو مضبوط کرکے تجارتی تعلقات کو عملی نتائج میں بدلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کاروباری برادریوں کے روابط بڑھانے اور ہنرمند پاکستانی کارکنوں کے لیے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ خلیجی تنظیم کے سیکریٹری جنرل کے مطابق مجوزہ معاہدہ تکمیل کے قریب ہے، تاہم ایک رکن ملک کی منظوری باقی بتائی گئی ہے۔

پاکستان اور بحرین نے دوطرفہ تجارت ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کے پہلے سے طے شدہ ہدف کا بھی ذکر کیا۔ دونوں حکومتوں نے اس مقصد کے لیے تجارت، سرمایہ کاری اور متعلقہ شعبوں کے درمیان رابطوں میں اضافے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ بحرینی وزیر خارجہ کے مطابق بحرین میں ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ پاکستانی مقیم ہیں، جو دونوں ملکوں کے سماجی اور اقتصادی تعلقات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مذاکرات میں خلیج کی کشیدہ صورت حال، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری جہازوں کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری پر بھی بات ہوئی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے تجارتی راستوں کی حفاظت اور مذاکرات کے ذریعے تناؤ کم کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔ مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے کے عملی فوائد کا انحصار اس کی باضابطہ منظوری، دستخط اور نفاذ پر ہوگا؛ فی الحال پیش رفت سفارتی اور انتظامی مرحلے میں ہے۔