باجوڑ: خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں متعدد سرکاری پرائمری اسکولوں کے بچوں کو نئے تعلیمی سال کے آغاز کے کئی ماہ بعد بھی بعض ضروری نصابی کتب فراہم نہیں کی جا سکیں۔ روزنامہ ڈان کی آٹھ اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق مختلف علاقوں کے رہائشیوں نے بتایا کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم متعدد بچوں کو محکمہ تعلیم کی جانب سے مفت تقسیم کی جانے والی مکمل کتابیں نہیں ملی ہیں۔ اس صورتحال سے جماعت کے اندر تدریس کے علاوہ گھر میں سبق دہرانے اور ہوم ورک کی تیاری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ میں لوئی ماموند، واڑ ماموند، سالارزئی، ناواگئی اور برنگ کے علاقوں کے والدین اور مقامی رہائشیوں کی شکایات کا ذکر کیا گیا ہے۔ لوئی ماموند سے تعلق رکھنے والے ایاز خان کے مطابق نئے تعلیمی سال کا آغاز اپریل کے پہلے ہفتے میں ہوا تھا، لیکن اب تک بعض جماعتوں کے بچوں کو جنرل سائنس سمیت مختلف مضامین کی کتابیں نہیں دی گئیں۔ والدین نے کہا کہ اسکول جانے والے بچوں کے لیے نصابی مواد کی عدم دستیابی مسلسل مسئلہ بن رہی ہے۔
بعض مقامی افراد نے دعویٰ کیا کہ مطلوبہ کتابیں محکمہ تعلیم کے پاس موجود ہیں، مگر بچوں تک نہیں پہنچائی جا رہیں۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں نہیں کی گئی۔ دوسری جانب رابطہ کرنے پر مقامی محکمہ تعلیم کے ایک اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، تسلیم کیا کہ کچھ بچوں تک مخصوص کتابوں کی فراہمی میں تاخیر ہوئی ہو سکتی ہے۔ اہلکار کے مطابق اس کی وجہ کتابوں کی محکمے تک ترسیل میں ہونے والی دیر ہو سکتی ہے۔
محکمہ تعلیم کے اہلکار نے یقین دلایا کہ معاملہ متعلقہ حکام کے سامنے اٹھایا جائے گا تاکہ جو طلبہ اب تک کتابوں سے محروم ہیں انہیں مطلوبہ کتب جلد فراہم کی جا سکیں۔ تاہم رپورٹ میں کتابوں کی تقسیم مکمل ہونے کی کوئی حتمی تاریخ یا متاثرہ طلبہ کی مصدقہ مجموعی تعداد فراہم نہیں کی گئی۔
یہ مسئلہ بنیادی تعلیم تک رسائی کے عملی پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ مفت تعلیم کے ساتھ نصابی کتب کی وقت پر فراہمی بھی ضروری ہے، کیونکہ دستیاب کتابوں کے بغیر تمام طلبہ کے لیے یکساں رفتار سے نصاب مکمل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں صورتحال کی بہتری کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ متعلقہ اسکولوں کو مطلوبہ کتابیں عملاً کب فراہم کی جاتی ہیں۔

