لاہور: انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب راؤ عبدالکریم نے لاہور ہائیکورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ صوبے میں لڑکیوں کے مبینہ طور پر لاپتا ہونے سے متعلق پانچ سو سے زائد مقدمات اب بھی زیر التوا ہیں۔ یہ معلومات بدھ کو چیف جسٹس عالیہ نیلم کے سامنے ایک درخواست کی سماعت کے دوران پیش کی گئیں۔ عدالت نے پولیس کی کارکردگی اور متاثرہ خاندانوں کو درپیش مشکلات پر سوالات اٹھاتے ہوئے ایسے مقدمات میں بازیابی کی کوششوں کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔
ڈان کی 8 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق فیصل آباد کی رہائشی سعدیہ حسین نے اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ سماعت کے موقع پر آئی جی پولیس خود عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ درخواست گزار کی بیٹی کو بازیاب کر لیا گیا ہے۔ اس مخصوص مقدمے میں بازیابی کی تصدیق کے بعد چیف جسٹس نے دیگر ایسے واقعات کے بارے میں سوالات کیے جن میں خاندان اپنی بچیوں کو تلاش کر رہے ہیں۔
عدالت کے استفسار پر پولیس سربراہ نے بتایا کہ پنجاب میں ایسے پانچ سو سے زیادہ مقدمات ابھی حل طلب ہیں۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ آیا پولیس نے خواتین اور بچوں کی گمشدگی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے کوئی منظم طریقہ کار تیار کیا ہے۔ آئی جی نے جواب دیا کہ ان مقدمات کی نگرانی اور کارروائی کے لیے خصوصی کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔ تاہم عدالت نے عملی نتائج کے تناظر میں پولیس کے اقدامات کا جائزہ لینے کی ضرورت ظاہر کی۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ بظاہر پولیس اس وقت زیادہ متحرک ہوتی ہے جب معاملہ عدالت کے نوٹس میں آتا ہے۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ ایک بچی دو سال سے لاپتا تھی اور اس کی بازیابی عدالتی کارروائی کے بعد ممکن ہوئی۔ عدالت نے ایسے خاندانوں کی اذیت اور طویل انتظار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پولیس حکام سے جواب طلبی کی۔
یہ اعداد زیر التوا گمشدگی کے مقدمات سے متعلق پولیس کا عدالتی بیان ہیں؛ ان سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ ہر کیس میں اغوا، ایک جیسا جرم یا یکساں حالات ثابت ہو چکے ہیں۔ ہر مقدمے کے حقائق اور تفتیش کا نتیجہ الگ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے عدالت نے ادارہ جاتی طریقہ کار، تفتیش اور بازیابی کی عملی پیش رفت پر مزید رپورٹ طلب کی۔ پولیس کی آئندہ رپورٹ سے واضح ہو سکے گا کہ کتنے مقدمات میں کیا پیش رفت ہوئی اور تاخیر کی وجوہ کیا ہیں۔
