کراچی: نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کی موت کے حالات اور متعلقہ پولیس تفتیش میں ممکنہ کوتاہیوں کا جائزہ لینے کے لیے قائم سندھ کے یک رکنی عدالتی کمیشن نے اپنی کارروائی مکمل کر لی ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں کمیشن نے مجموعی طور پر 15 سماعتوں کے دوران 49 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے اور اس مقام کا دورہ بھی کیا جہاں میر رضا کی لاش ملی تھی۔ بدھ کو ہونے والی آخری سماعت میں تفتیشی افسر اور سٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی کے عہدیدار کے بیانات قلم بند کیے گئے۔
ڈان کی 8 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ کمیشن 24 اگست کو قائم کیا گیا تھا۔ آخری سماعت میں ڈی ایس پی سراج احمد لاشاری اور سی پی ایل سی کے اسسٹنٹ چیف آپریشنز کاشف افتخار پیش ہوئے۔ سی پی ایل سی کے نمائندے نے بتایا کہ ان کا ادارہ نوجوان کی گمشدگی کی اطلاع ملنے کے بعد سے پولیس کو تکنیکی معاونت فراہم کر رہا تھا اور موبائل کال ریکارڈ، جیو فینسنگ اور سی سی ٹی وی مواد کا جائزہ بھی لیا گیا۔ ان کے مطابق ان کوششوں کے باوجود تاحال کوئی ٹھوس سراغ نہیں ملا اور اصل تفتیش جاری ہے۔
سماعت میں بتایا گیا کہ میر رضا نے لاپتا ہونے سے پہلے صبح کے وقت اپنے موبائل پر نقشے کی سروس استعمال کی تھی، جبکہ آخری فون کال ایک آن لائن ٹیکسی کے ڈرائیور کو کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔ ان معلومات سے کسی شخص کے جرم میں ملوث ہونے کا قطعی نتیجہ نہیں نکالا گیا۔ تفتیشی افسر نے کمیشن کو بتایا کہ وہ معاملے کی تحقیقات قتل کے زاویے سے کر رہے ہیں۔ کمیشن نے پولیس کی تفتیش کے مختلف مراحل پر سوالات اٹھائے اور شواہد جمع کرنے کے بعض طریقوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران جائے وقوعہ پر جھاڑیوں کو جلانے کے عمل کے بارے میں بھی سوال اٹھا، جس پر تفتیشی افسر نے تسلیم کیا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر نے ایک گاڑی کی مشتبہ نقل و حرکت کی جانب توجہ دلائی، تاہم پولیس افسر نے کہا کہ دستیاب ریکارڈ کے جائزے سے اس گاڑی کا کوئی مشتبہ تعلق سامنے نہیں آیا۔ کمیشن نے تفتیش کے طریقہ کار میں محدود زاویہ اختیار کیے جانے پر بھی تبصرہ کیا۔
اہل خانہ کے وکیل نے درخواست کی کہ کمیشن کی حتمی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے۔ جسٹس عمر سیال نے کہا کہ رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کی جائے گی اور اسے شائع کرنے کا فیصلہ متعلقہ حکومتی سطح پر ہو گا۔ میر رضا علی کی لاش 29 جولائی کو کراچی کے گلستان جوہر کے ایک ویران علاقے میں ملی تھی اور اس پر گولی کا ایک زخم تھا۔ پولیس نے ابتدائی طور پر معاملے کو خودکشی کے طور پر درج کیا تھا۔ کمیشن کی سماعتوں کا اختتام کسی فرد کے خلاف جرم ثابت ہونے یا حتمی عدالتی سزا کے مترادف نہیں؛ پولیس کی تفتیش اور رپورٹ کی آئندہ کارروائی الگ مراحل ہیں۔
