شمالی وزیرستان/کوئٹہ: سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی دو الگ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 18 مشتبہ عسکریت پسند ہلاک کیے گئے۔ سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی نے سات اکتوبر کو سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائی میں 13 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دوسری کارروائی میں پانچ افراد مارے گئے۔ آزادانہ طور پر دونوں مقامات کی مکمل عملی تفصیلات کی تصدیق دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق شمالی وزیرستان کی کارروائی ان گروہوں کے خلاف جاری اقدامات کا حصہ تھی جنہیں ریاستی ادارے فتنہ الخوارج کے نام سے بیان کرتے ہیں۔ یہ اصطلاح حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک عناصر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مستونگ میں مارے جانے والوں کو سرکاری میڈیا نے فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے افراد قرار دیا؛ یہ بھی ریاستی اداروں کی استعمال کردہ اصطلاح ہے، نہ کہ کسی انفرادی ملزم کی عدالتی طور پر ثابت شدہ شناخت۔
اطلاعات میں کہا گیا کہ کارروائیوں کے بعد ہتھیار اور گولہ بارود قبضے میں لیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے متعلقہ علاقوں میں تلاشی اور کلیئرنس کا عمل جاری رکھا۔ تاہم برآمد ہونے والے ہتھیاروں کی مکمل الگ الگ فہرست یا کارروائیوں سے متعلق دیگر عملی تفصیلات دستیاب خبر میں بیان نہیں کی گئیں۔ اس لیے کسی اضافی سازوسامان یا گرفتاری کا دعویٰ یہاں شامل نہیں کیا جا رہا۔
صدر مملکت، وزیراعظم اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے سکیورٹی اہلکاروں کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے شدت پسند تشدد کے خلاف کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ سرکاری نمائندوں کے یہ بیانات حکومتی مؤقف کی نمائندگی کرتے ہیں؛ انہیں آزاد تحقیق کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان کئی برسوں سے دہشت گرد حملوں اور سلامتی کے مسائل سے متاثر ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے دستیاب ماہانہ اعداد کے مطابق خیبر پختونخوا میں، ضم شدہ اضلاع کے علاوہ، اگست میں دہشت گرد حملوں کی تعداد 54 رہی، جبکہ جولائی میں یہ تعداد 36 تھی۔ اسی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں اگست میں 89 اور جولائی میں 83 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ ان اعداد کا حوالہ عمومی سلامتی پس منظر کے لیے ہے، انہیں مذکورہ دو کارروائیوں میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت کی تصدیق نہ سمجھا جائے۔
سات اکتوبر کی کارروائیوں سے متعلق دستیاب اطلاع بنیادی طور پر سرکاری ذرائع سے حاصل ہوئی ہے۔ ہلاکتوں کی تعداد، وابستگی اور برآمدگی کے دعوے اسی نسبت سے رپورٹ کیے گئے ہیں، جبکہ الگ تحقیقات یا مزید سرکاری تفصیل سامنے آنے پر صورت حال کی مزید وضاحت ممکن ہوگی۔

