اسلام آباد: پاکستان نے برطانیہ اور پولینڈ کے ساتھ غیر قانونی ہجرت، منشیات کی اسمگلنگ اور منظم جرائم سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے پر بات چیت کی ہے۔ سات اکتوبر کو وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے برطانیہ اور پولینڈ کے نمائندوں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ڈان کی آٹھ اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ملاقاتوں میں باہمی تعاون مضبوط بنانے اور متعلقہ سمجھوتوں کی تیاری پر اتفاق کیا گیا۔
برطانوی وزیر مملکت برائے خارجہ امور اسٹیفن ڈوٹی سے ملاقات کے دوران محسن نقوی نے جعلی تعلیمی ویزوں کے ذریعے برطانیہ جانے کی کوششوں کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ معاملہ غیر قانونی ہجرت کے امکانات سے متعلق تعاون کی بحث کا حصہ تھا؛ دستیاب رپورٹ میں جعلی ویزوں سے متعلق کسی مخصوص نئے مقدمے یا فرد کی گرفتاری کا اعلان نہیں کیا گیا۔
پولینڈ کے وزیر اور کونسل آف منسٹرز کے سربراہ توماش شیمونیاک کے ساتھ ملاقات میں دونوں ملکوں کے تعلقات، سلامتی کے شعبے میں تعاون اور آئندہ رابطوں کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور پولینڈ نے باہمی قانونی معاونت سمیت مختلف یادداشت ہائے تفاہم کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ طلال چودھری کی سربراہی میں وزارت داخلہ کا ایک وفد جلد پولینڈ کا دورہ بھی کرے گا، تاہم دورے کی قطعی تاریخ دستیاب رپورٹ میں بیان نہیں ہوئی۔
باہمی قانونی معاونت کا تصور عمومی طور پر سرحد پار تحقیقات اور قانونی کارروائی میں متعلقہ ریاستی اداروں کے درمیان تعاون سے متعلق ہوتا ہے، لیکن اس خبر میں صرف مجوزہ یادداشتوں کا ذکر موجود ہے۔ اس لیے ان دستاویزات کو پہلے ہی دستخط شدہ یا نافذ العمل معاہدے قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ کسی قانونی معاونت کے نظام کی عملی حدود حتمی متن اور متعلقہ ملکی قوانین سے طے ہوں گی۔
پاکستانی اور غیر ملکی نمائندوں کی بات چیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ سرحد پار جرائم کے خلاف حکومتی رابطے صرف داخلی نفاذ قانون تک محدود نہیں رہتے۔ سفارتی رابطوں، معلومات کے تبادلے اور قانونی تعاون کی ضروریات ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں، خصوصاً جب کسی معاملے میں مختلف ملکوں کے ادارے شامل ہوں۔ تاہم مخصوص کارروائیوں، نئی گرفتاریاں یا جرائم میں کمی کا نتیجہ اس اجلاس سے منسوب نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایسی کوئی تصدیق شدہ تفصیل رپورٹ میں درج نہیں۔
فی الحال یہ خبر تینوں ممالک کی سطح پر تعاون بڑھانے کے ارادے، طے شدہ ملاقاتوں اور پولینڈ سے متعلق زیر تکمیل دستاویزات کی پیش رفت تک محدود ہے۔ آئندہ وفود کے دوروں اور مفاہمتی یادداشتوں کے باضابطہ دستخط کے بعد عملی تعاون کی صورت مزید واضح ہو سکے گی۔

