اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ریلوے کی مرکزی لائن ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن تیز کرنے اور ریلوے کے انتظامی و مالیاتی ڈھانچے میں کاروباری طرز کی اصلاحات متعارف کرانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے سات اکتوبر کو ریلوے سے متعلق اجلاس میں کہا کہ مسافروں کی سہولت اور مال برداری کی استعداد بہتر بنانے کے لیے اس منصوبے کی اہمیت بنیادی نوعیت کی ہے۔

وزیراعظم آفس کے مطابق اجلاس میں ریلوے کی ملکیتی زمین، اس پر قائم تجاوزات اور قابل استعمال تجارتی اثاثوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے قومی احتساب بیورو اور وزارت ریلوے کی جانب سے ریلوے اراضی کی نشاندہی اور واگزاری کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ان اثاثوں سے حاصل ہونے والی ممکنہ آمدن کو ادارے کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے۔

وزیراعظم نے ریلوے اراضی پر تجارتی منصوبوں کے ذریعے بینک فنانسنگ حاصل کرنے کے اصولی انتظام کی منظوری دی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زمین کی حقیقی تجارتی استعداد پر مبنی جامع منصوبہ دو ہفتوں میں پیش کریں۔ یہ ہدایت مستقبل کی مالیاتی منصوبہ بندی سے متعلق ہے؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام مجوزہ قرضے حاصل یا تمام تجارتی منصوبے شروع ہوچکے ہیں۔

حکام نے اجلاس کو بتایا کہ تقریباً 1726 کلومیٹر طویل ایم ایل ون منصوبہ چار بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: کراچی سے روہڑی، روہڑی سے ملتان، ملتان سے لاہور اور لاہور سے پشاور۔ کراچی روہڑی حصے کے لیے بین الاقوامی مالی معاونت استعمال کی جا رہی ہے، جبکہ باقی حصوں کی مالی ضروریات ملکی وسائل سے پوری کرنے کے منصوبے زیر تیاری ہیں۔

بریفنگ کے مطابق پہلے مرحلے میں کراچی سے روہڑی یا سکھر تک تقریباً 480 کلومیٹر حصے پر تعمیراتی کام جنوری 2027 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ اس حصے میں نئی اپ اور ڈاؤن پٹریوں کے ساتھ دونوں اطراف باڑ لگانے کا منصوبہ بھی شامل ہے تاکہ غیر مجاز افراد، جانوروں اور گاڑیوں کی پٹری تک رسائی کم ہوسکے۔ آغاز کی تاریخ فی الحال متوقع ہے، حتمی مکمل شدہ پیش رفت نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کو مالی طور پر خود کفیل اور عملی طور پر مؤثر بنانے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات ضروری ہیں۔ منصوبے کی رفتار، مالی وسائل کی دستیابی اور ریلوے اراضی کے استعمال سے متعلق فیصلے آئندہ مراحل میں اس حکمت عملی کی کامیابی کا تعین کریں گے۔