راولپنڈی: پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر، نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں گزشتہ 48 سے 72 گھنٹوں کے دوران انٹیلی جنس معلومات پر مبنی اور جوابی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 48 مبینہ دہشت گرد مارے گئے۔ فوجی بیان کے مطابق کارروائیاں مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی کے علاقوں میں ہوئیں۔ ہلاکتوں کی تعداد، گروہی شناخت اور بیرونی سرپرستی سے متعلق تفصیلات آئی ایس پی آر کے بیان پر مبنی ہیں اور آزاد ذرائع سے ان کی الگ تصدیق دستیاب نہیں۔

تازہ بیان کے مطابق مستونگ میں مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کا سراغ ملنے پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی اور فائرنگ کے تبادلے میں چھ افراد مارے گئے۔ کوئٹہ کے شعبان علاقے میں چار مبینہ ٹھکانوں کی نشاندہی کے بعد کیے گئے آپریشن میں 26 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مستونگ سے گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات بھی برآمد کرکے موقع پر تباہ کیے گئے۔

اسی سلسلے میں قلات کے ایک مبینہ ٹھکانے پر چھاپے کے دوران مزید دو افراد مارے گئے، جبکہ سبی ضلع کے بھاگ شہر میں پولیس تھانے پر حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے دو حملہ آور ہلاک کیے گئے۔ ان تازہ چار کارروائیوں میں فوجی بیان کے مطابق مجموعی تعداد 36 بنتی ہے۔ اس سے پہلے بدھ کو قلات میں الگ انٹیلی جنس آپریشن کے دوران 12 مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت کا اعلان کیا گیا تھا؛ دونوں اعلانات کو ملا کر 48 کی مجموعی تعداد بیان کی گئی۔

بھاگ کے واقعے کے بارے میں بلوچستان حکومت نے الگ تفصیل میں کہا کہ حملہ آوروں نے پولیس تھانے، ایک بینک اور اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر کو مربوط انداز میں نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے حملہ ناکام بنایا، تاہم دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے۔ دستیاب سرکاری تفصیلات میں زخمیوں کی حالت اور واقعے میں شہری املاک کو پہنچنے والے نقصان کا مکمل جائزہ جاری نہیں کیا گیا۔

آئی ایس پی آر نے کارروائیوں میں مارے گئے افراد کو ریاستی اصطلاحات ”فتنہ الہندوستان“ اور ”فتنہ الخوارج“ سے منسلک کیا اور انہیں بھارت کے حمایت یافتہ قرار دیا۔ پاکستان میں پہلی اصطلاح بلوچستان میں سرگرم ممنوعہ مسلح گروہوں اور دوسری کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عناصر کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ بیرونی سرپرستی کا سرکاری پاکستانی الزام ہے؛ تازہ بیان کے ساتھ کسی مخصوص فرد کی شناخت، گرفتاری کے بعد عدالتی ریکارڈ یا عوامی سطح پر جانچے جانے کے قابل مکمل شواہد جاری نہیں کیے گئے۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے قلات کی کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور دہشت گردی کے خاتمے کا عزم دہرایا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں امن خراب کرنے کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

یہ رپورٹ ایک ہی مجموعی فوجی اعلان میں شامل الگ مقامات اور اوقات کی کارروائیوں کا عددی خاکہ پیش کرتی ہے۔ اسے ہر ضلع میں پیش آنے والے واقعات کی آزاد تفتیش یا کسی گرفتار شخص کے خلاف عدالتی نتیجہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ مزید تفصیلات، شناختیں یا نقصانات سامنے آنے کی صورت میں مجموعی تصویر تبدیل یا زیادہ واضح ہو سکتی ہے۔