کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں گریڈ 5 اور اس سے اوپر کی سرکاری آسامیوں کیلئے منظور شدہ میرٹ پالیسی فوری نافذ کرنے کی ہدایت کی ہے، جس میں بھرتی کے عمل میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا طریقہ شامل ہے۔ ڈان کے مطابق وزیراعلیٰ نے سیکریٹریز کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمتوں کی خرید و فروخت برداشت نہیں کی جائے گی اور قابل اعتبار ثبوت سامنے آنے پر ذمہ دار وزیر یا سیکریٹری کے خلاف بھی کارروائی ہوسکتی ہے۔
اجلاس میں صوبائی محکموں کی کارکردگی، سالانہ ترقیاتی پروگرام پر پیش رفت اور بھرتی کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے حکام کو ہدایت کی کہ پورے بھرتی عمل میں شفافیت اور میرٹ یقینی بنایا جائے اور سیاسی دباؤ، سفارش یا اثر و رسوخ کو قبول نہ کیا جائے۔ منظور شدہ پالیسی کے تحت گریڈ 5 اور اس سے اوپر کی آسامیوں کیلئے ٹیسٹ مقامی سطح پر منعقد کرنے اور وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کی معاونت فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے۔
ڈان کے مطابق اجلاس میں محکمہ جنگلات کی بھرتیوں سے متعلق بے ضابطگیوں کی شکایات بھی زیر غور آئیں۔ وزیراعلیٰ نے ان شکایات کی غیر جانب دار تحقیقات کا حکم دیا اور کہا کہ قصور ثابت ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس مرحلے پر بے ضابطگیوں کی شکایات الزامات ہیں؛ کسی فرد کے خلاف حتمی قصور یا قانونی ذمہ داری کا تعین تحقیقاتی عمل کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق سرکاری اعلان کا مقصد بھرتی میں انسانی مداخلت اور غیر شفاف فیصلوں کے امکانات کم کرنا بتایا گیا ہے، تاہم دستیاب رپورٹ میں الگورتھم، ڈیٹا کے استعمال، امیدواروں کے اعتراض یا اپیل کے طریقہ کار اور نظام کے آزادانہ آڈٹ کی مکمل تکنیکی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔ اس لیے پالیسی کی عملی شفافیت کا جائزہ اس وقت بہتر طور پر لیا جاسکے گا جب حکومت اس کے قواعد، جانچ کے معیار اور نگرانی کے طریقہ کار کو تفصیل سے نافذ کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے افسران سے کہا کہ وہ فرائض دیانت داری اور غیر جانب داری سے انجام دیں۔ صوبائی حکومت کیلئے یہ پالیسی خاص طور پر اہم ہے کیونکہ سرکاری ملازمتیں بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے معاشی مواقع کا ایک نمایاں ذریعہ ہیں اور بھرتیوں میں بدعنوانی یا سفارش کے الزامات براہ راست عوامی اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔
اعلان کے بعد اصل امتحان پالیسی کے یکساں نفاذ، ٹیسٹنگ کے قابل جانچ معیار اور شکایات کے مؤثر ازالے کا ہوگا۔ اگر اے آئی یا کسی خودکار نظام کو امیدواروں کی جانچ میں استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے فیصلوں کی وضاحت، غلطی کی اصلاح اور انسانی نگرانی بھی شفاف بھرتی کیلئے اہم عناصر ہوں گے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت وزیراعلیٰ کا فوری نفاذ کا حکم اور محکمہ جنگلات کی شکایات پر تحقیقات کی ہدایت ہے۔




