پشاور: خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی، سی ٹی ڈی، نے پشاور کے شمشتو کیمپ کے علاقے میں ایک کارروائی کے دوران پانچ مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم کا مطلوب کمانڈر عمران بھی شامل تھا۔

سی ٹی ڈی کے ترجمان کے حوالے سے جیو نیوز نے رپورٹ کیا کہ کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ کمانڈر عمران مختلف دہشت گردی کے مقدمات میں مطلوب تھا اور اس کے سر کی قیمت ایک کروڑ 20 لاکھ روپے مقرر تھی۔ پولیس کے مطابق وہ تقریباً 20 مقدمات میں مطلوب تھا، تاہم یہ تفصیلات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سرکاری دعوے پر مبنی ہیں۔

حکام نے بتایا کہ کارروائی کے مقام سے ایک سب مشین گن، چار پستول، دو دستی بم اور ایک دیسی ساختہ دھماکا خیز آلہ، آئی ای ڈی، برآمد کیا گیا۔ دستیاب رپورٹ میں ہلاک افراد کے خلاف عدالتی فیصلوں کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی، اس لیے ان کے بارے میں دہشت گردی سے متعلق نسبت سی ٹی ڈی اور پولیس حکام کے بیان کے طور پر بیان کی جا رہی ہے۔

خیبرپختونخوا میں حالیہ برسوں کے دوران پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر سکیورٹی ادارے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ پشاور صوبائی دارالحکومت ہونے کے باعث سکیورٹی کے اعتبار سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ شہر کے مضافاتی علاقوں میں بھی وقتاً فوقتاً مشتبہ عناصر کے خلاف کارروائیاں رپورٹ ہوتی رہی ہیں۔

اس واقعے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کسی اہلکار کے جانی نقصان کی اطلاع دستیاب رپورٹ میں نہیں دی گئی۔ اسی طرح کارروائی کے دوران فائرنگ کے دورانیے، ابتدائی انٹیلی جنس کی نوعیت یا ہلاک ہونے والے دیگر چار افراد کی مکمل شناخت سے متعلق تفصیلی معلومات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔

واقعے کے بعد برآمد شدہ اسلحہ اور دھماکا خیز مواد کو مزید تفتیش کے لیے تحویل میں لیے جانے کی توقع ہے، جبکہ سی ٹی ڈی عام طور پر ایسے واقعات میں مشتبہ افراد کے رابطوں اور ممکنہ سہولت کاروں کی چھان بین بھی کرتی ہے۔ تاہم کسی اضافی گرفتاری یا نیٹ ورک کے بارے میں حتمی دعویٰ دستیاب مصدقہ رپورٹ میں نہیں کیا گیا۔