اسلام آباد/بنوں: خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں آٹھ ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق کے بعد پاکستان میں سال 2026 کے دوران رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی مجموعی تعداد چار ہو گئی ہے۔ قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے انسداد پولیو کے مطابق متاثرہ بچہ بنوں کی تحصیل میریان کی یونین کونسل نورڑ کا رہائشی ہے۔

حکام کے مطابق رواں سال سامنے آنے والے چار کیسز میں سے تین بنوں ڈویژن سے رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے اس خطے میں وائرس کی موجودگی اور بچوں تک ویکسین کی مسلسل رسائی کے چیلنج کی نشاندہی ہوتی ہے۔ صحت حکام نے بتایا ہے کہ بعض علاقوں میں سکیورٹی کی صورت حال انسداد پولیو ٹیموں کی رسائی کو متاثر کرتی رہی ہے۔

پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو خاص طور پر کم عمر اور غیر ویکسین شدہ یا ناکافی ویکسین لینے والے بچوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بار بار ویکسین پلانا اس لیے ضروری سمجھا جاتا ہے کہ کمیونٹی میں قوت مدافعت کی سطح بلند رہے اور وائرس کو ایک بچے سے دوسرے بچے تک منتقل ہونے کا موقع کم ہو۔

تازہ کیس کے بعد انسداد پولیو پروگرام کے لیے بنوں اور ملحقہ علاقوں میں ویکسینیشن کوریج، چھوٹ جانے والے بچوں اور سکیورٹی سے متعلق رکاوٹوں پر توجہ مزید اہم ہو گئی ہے۔ پروگرام کی حکمت عملی میں گھر گھر ویکسینیشن، ماحولیاتی نگرانی، مشتبہ کیسز کی لیبارٹری جانچ اور حساس علاقوں میں خصوصی مہمات شامل ہوتی ہیں۔

حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ ہر انسداد پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ویکسین کے قطرے ضرور پلوائیں، خواہ بچے نے ماضی میں بھی متعدد مرتبہ پولیو ویکسین حاصل کی ہو۔ پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں ہر مہم کے دوران بچوں تک رسائی اور مقامی سطح پر اعتماد برقرار رکھنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

جیو نیوز کی رپورٹ میں قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے حوالے سے تازہ کیس کی تصدیق کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بنوں ڈویژن میں کیسز کے ارتکاز اور بعض مقامات پر سکیورٹی مسائل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ نئے مریض کی تشخیص ایک تصدیق شدہ طبی واقعہ ہے، تاہم وائرس کی مخصوص منتقلی کی زنجیر یا متاثرہ بچے تک وائرس پہنچنے کے راستے کے بارے میں دستیاب رپورٹ میں کوئی حتمی نتیجہ بیان نہیں کیا گیا۔