اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے مختلف شہروں میں بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی علاقے میں بجلی کی بندش دو گھنٹے سے زیادہ نہ ہو۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے یہ ہدایات ملک میں پاور لوڈ مینجمنٹ کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بلائے گئے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔

وزیراعظم آفس کے جاری کردہ بیان کے مطابق شہباز شریف نے مختلف شہروں میں لوڈشیڈنگ بڑھنے پر ناراضی کا اظہار کیا۔ اجلاس میں بجلی کی طلب، دستیابی اور لوڈ مینجمنٹ سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیا گیا، جبکہ وزیراعظم نے صارفین کو طویل دورانیے کی بندش سے بچانے کے لیے انتظامی اقدامات پر زور دیا۔

وزیراعظم کی جانب سے دو گھنٹے کی حد مقرر کرنے کی ہدایت پاور ڈویژن اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے ایک واضح انتظامی ہدف ہے۔ اس ہدایت کا عملی اثر اس بات سے جانچا جائے گا کہ مختلف ڈسکوز اپنے علاقوں میں طلب اور رسد کے فرق، نظام کی فنی رکاوٹوں اور واجبات سے متعلق مسائل کے باوجود شیڈول کو کس حد تک محدود رکھتی ہیں۔ سرکاری بیان میں اس ہدایت کو فوری توجہ کے حامل لوڈ مینجمنٹ معاملے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

پاکستان میں بجلی کی فراہمی کا مسئلہ صرف پیداواری صلاحیت تک محدود نہیں رہتا بلکہ ترسیلی نظام، تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی، لائن لاسز اور مالی واجبات بھی لوڈ مینجمنٹ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے دو گھنٹے سے زیادہ بندش نہ ہونے کی ہدایت کے نفاذ کے لیے مختلف اداروں کے درمیان عملی رابطہ ضروری ہوگا۔

وزیراعظم کے نوٹس کے بعد اب توجہ اس امر پر ہوگی کہ متعلقہ حکام مختلف شہروں اور علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے دورانیے کو کس طرح کم کرتے ہیں اور آیا صارفین کو عملی سطح پر اس فیصلے کا فائدہ ملتا ہے۔ سرکاری سطح پر جاری ہونے والی آئندہ تفصیلات سے یہ بھی واضح ہوگا کہ ہدایت پر عمل درآمد کی نگرانی کس طریقہ کار کے تحت کی جائے گی۔