لاہور: پنجاب حکومت نے مارچ 2027 میں لاہور میں مجوزہ ’سیف بسنت‘ کے انعقاد کے لیے سخت حفاظتی اور انتظامی ضابطوں کا خاکہ تیار کیا ہے۔ صوبائی محکمہ داخلہ کے اجلاس میں طے کیا گیا کہ بسنت 12 سے 14 مارچ تک محدود ہوگی جبکہ ان مقررہ دنوں سے باہر پتنگ بازی صوبے میں بدستور غیر قانونی اور ممنوع رہے گی۔

اجلاس کی صدارت ہوم سیکریٹری پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کی۔ انتظامیہ کے مطابق غیر مجاز پتنگ بازی پر پانچ سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکتا ہے، جبکہ حکومتی اجازت کے بغیر پتنگ یا ڈور تیار کرنے، منتقل کرنے یا فروخت کرنے پر سزا سات سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے تک جا سکتی ہے۔

حفاظتی منصوبے میں لاہور کی چھتوں اور عمارتوں کی ساختی جانچ بھی شامل ہے۔ ڈپٹی کمشنر کو پرانی اور غیر محفوظ عمارتوں کا معائنہ کرانے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ غیر محفوظ چھتوں پر پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی۔ عمارت مالکان کو چھتوں، منڈیروں، گرِلوں اور سیڑھیوں کی ضروری مرمت اور حفاظتی انتظامات 31 دسمبر 2026 تک مکمل کرنے ہوں گے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پتنگ اور ڈور بنانے، فروخت کرنے اور منتقل کرنے والوں کے اجازت نامے متعلقہ ضلعی انتظامیہ جاری کرے گی۔ چیف ٹریفک افسر لاہور کو 20 لاکھ سے زیادہ موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈ مفت نصب کرنے کے انتظامات کی ہدایت کی گئی، جبکہ لیسکو سے بجلی کی تنصیبات کے گرد حفاظتی جال لگانے کا کہا گیا ہے۔

حکام کے مطابق بچوں کی حفاظت کی بنیادی ذمہ داری والدین، سرپرستوں اور تقریب کے منتظمین پر ہوگی۔ ڈپٹی کمشنر کو خلاف ورزی کرنے والی عمارت سیل کرنے کا اختیار دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ کسی حادثے، جانی نقصان، زخمی ہونے یا قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں عمارت کے مالک اور منتظم کی ذمہ داری کا تعین متعلقہ قانون اور تحقیقات کے مطابق کیا جائے گا۔ یہ انتظامات ابھی مجوزہ بسنت سے کئی ماہ پہلے کیے جا رہے ہیں تاکہ ماضی میں دھاتی یا خطرناک ڈور اور غیر محفوظ چھتوں سے جڑے خطرات کو محدود کیا جا سکے۔