پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا کی مختلف سرکاری جامعات کے ان ملازمین کو ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے جنہیں نگران حکومت کے دور میں بھرتی کا عمل مکمل ہونے کی بنیاد پر صوبائی قانون کے تحت برطرف کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ محض یہ حقیقت کہ تقرری کے عمل کا کوئی مرحلہ نگران دور میں مکمل ہوا، خود مختار سرکاری یونیورسٹی کی قانونی تقرری کو نگران حکومت کی تقرری میں تبدیل نہیں کرتی۔

جسٹس نعیم انور اور جسٹس کامران حیات میانخیل پر مشتمل بینچ نے مختلف جامعات کے ملازمین کی تقریباً ایک درجن درخواستیں منظور کیں۔ تفصیلی فیصلے میں عدالت نے درخواست گزاروں کو تمام سابقہ مالی و سروس مراعات کے ساتھ بحال کرنے اور ان کے خلاف متعلقہ انتظامی کارروائیوں کو، مخصوص قانونی بنیاد پوری کیے بغیر، غیر مؤثر قرار دیا۔

تنازع خیبر پختونخوا ایمپلائز (ریموول فرام سروس) ایکٹ 2025 کے اطلاق سے متعلق تھا۔ صوبائی حکومت نے یہ قانون ان مخصوص زمروں کی تقرریوں کے خلاف کارروائی کے لیے بنایا تھا جو 2024 کے عام انتخابات سے قبل نگران دور میں ہوئی تھیں۔ بعد میں جامعات سے بھی نگران مدت کے دوران مکمل ہونے والی تقرریوں کی معلومات طلب کی گئیں اور انتظامی کمیٹیوں نے معاملے کا جائزہ لیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں سرکاری جامعات کی الگ قانونی حیثیت اور انتظامی، تعلیمی و مالی خود مختاری پر زور دیا۔ بینچ کے مطابق درخواست گزاروں کی تقرریاں جامعات کے اپنے سلیکشن بورڈ یا کمیٹیوں کے ذریعے عمل میں آئیں اور متعلقہ سنڈیکیٹس نے منظوری دی؛ ریکارڈ میں ایسا مواد سامنے نہیں آیا کہ نگران وزیراعلیٰ، کابینہ، وزیر، سیکریٹری یا کسی دوسرے حکومتی عہدیدار نے ان کے تقرری احکامات جاری کیے ہوں۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ ریموول ایکٹ کی دفعہ 3 لاگو کرنے کے لیے ضروری قانونی عناصر ثابت نہیں کیے گئے، خصوصاً یہ کہ تقرری الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 230 کی خلاف ورزی میں ہوئی ہو۔ فیصلے کے مطابق انتظامی یا کابینہ کمیٹیاں قانون کا دائرہ اپنی سفارشات سے وسیع نہیں کرسکتیں۔

عدالت نے حکومت کو صرف نگران دور کے ساتھ زمانی تعلق کی بنیاد پر درخواست گزاروں کے خلاف دفعہ 3 کے تحت منفی کارروائی سے روک دیا، تاہم واضح کیا کہ کسی آزاد اور قابل اطلاق قانونی شق کے تحت کارروائی کی گنجائش الگ معاملہ ہوسکتی ہے۔ اس فیصلے کا فوری اثر درخواست گزار ملازمین کی بحالی ہے، جبکہ اس کے وسیع تر اطلاق کا انحصار دیگر ملازمین کے حقائق اور قانونی حیثیت پر ہوگا۔