پشاور: خیبر پختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے کہا ہے کہ پشاور اور نوشہرہ اضلاع کی سرحد پر واقع شامشتو کے علاقے میں ایک کارروائی کے دوران کالعدم داعش خراسان (آئی ایس کے پی) سے تعلق رکھنے والے پانچ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ سی ٹی ڈی کے بیان کے مطابق کارروائی جمعرات کی شب خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی، جس میں سکیورٹی اہلکاروں اور وہاں موجود مسلح افراد کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

محکمے کے مطابق اسے شامشتو افغان مہاجر کیمپ کے قریب کابل انگلش لینگویج سنٹر کے احاطے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران مارے جانے والوں میں تنظیم کا ایک اہم کمانڈر عمران بھی شامل تھا، جو عبداللہ، بلال اور ابو بکر کے ناموں سے بھی شناخت کیا جاتا تھا۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ عمران متعدد دہشت گردی مقدمات میں مطلوب تھا۔

سی ٹی ڈی کے بیان میں کہا گیا کہ احاطے میں موجود افراد حساس اداروں، امام بارگاہوں اور گرجا گھروں کو نشانہ بنانے سمیت بڑے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ یہ دعوے محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں؛ واقعے اور منصوبہ بندی کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق رپورٹ کے وقت دستیاب نہیں تھی۔

کارروائی کا مقام پشاور اور نوشہرہ کے درمیان واقع حساس علاقے میں ہے، جہاں ماضی میں بھی عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیاں ہوتی رہی ہیں۔ حکام نے فوری طور پر ہلاک ہونے والے دیگر افراد کی مکمل شناخت یا کارروائی میں برآمد ہونے والے ممکنہ اسلحے کی تفصیل جاری نہیں کی۔

یہ واقعہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے تناظر میں اہم ہے، کیونکہ سی ٹی ڈی نے ہلاک کمانڈر کو تنظیمی سطح پر اہم اور متعدد مقدمات میں مطلوب قرار دیا ہے۔ مزید قانونی یا فرانزک تفصیلات سامنے آنے کی صورت میں ہی یہ واضح ہوگا کہ زیرِ تفتیش مقدمات اور مبینہ منصوبوں کے ساتھ ہلاک افراد کے روابط کس نوعیت کے تھے۔