اسلام آباد: ملک کی اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم تشکیل دینے اور نئے صوبوں، امن و امان، معیشت اور مہنگائی سمیت اہم قومی معاملات پر آل پارٹیز کانفرنس، اے پی سی، بلانے کے لیے مشاورت تیز کر دی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک وفد نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی قیادت میں وفد نے مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جس میں ملک کی سیاسی صورت حال، اپوزیشن کی ممکنہ احتجاجی حکمت عملی اور مختلف قومی امور پر مشترکہ موقف کے امکانات زیر بحث آئے۔

اپوزیشن رہنماؤں کی مشاورت میں امن و امان، معاشی مشکلات، مہنگائی اور نئے صوبوں کی تشکیل جیسے موضوعات کو اے پی سی کے ممکنہ ایجنڈے کا حصہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم کانفرنس کی حتمی تاریخ، مقام اور مکمل ایجنڈا تاحال باضابطہ طور پر طے نہیں کیا گیا، اس لیے اس مرحلے کو مشاورتی اور رابطہ کاری کا عمل سمجھا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اپوزیشن کے اندر ایک مشترکہ فورم کے قیام پر بھی بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی فورم کی تشکیل کی صورت میں مختلف جماعتوں کے درمیان پارلیمانی اور عوامی سطح کی حکمت عملی کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، مگر جماعتوں کے درمیان تمام نکات پر حتمی اتفاق رائے کی تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔

نئے صوبوں کا معاملہ آئینی، انتظامی اور سیاسی اعتبار سے پیچیدہ ہے اور اس پر مختلف جماعتوں اور علاقوں کے الگ الگ مؤقف رہے ہیں۔ اسی طرح امن و امان اور معیشت کے موضوعات پر بھی اپوزیشن حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتی رہی ہے۔ مجوزہ اے پی سی کا مقصد ان معاملات پر وسیع تر سیاسی مشاورت کرنا بتایا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) ماضی میں ایک دوسرے کی سیاسی حریف رہی ہیں، تاہم حالیہ سیاسی حالات میں دونوں جماعتوں کے درمیان رابطوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ موجودہ ملاقات کو اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ فی الحال کسی مشترکہ احتجاجی شیڈول یا باضابطہ اتحاد کے قیام کو حتمی فیصلہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ دستیاب معلومات کے مطابق مذاکرات اور مشاورت کا مرحلہ جاری ہے۔