کوئٹہ: بلوچستان کی صوبائی کابینہ نے قدرتی وسائل سے حاصل آمدن کے استعمال، تعلیم کی رسائی، صنعتی سرگرمیوں اور سرکاری خریداری کے نظام سے متعلق متعدد اقدامات کی منظوری دی ہے۔ ڈان کی 10 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیرصدارت جمعے کو ہونے والے اجلاس میں مختلف شعبوں کے لیے پالیسی اور انتظامی فیصلے کیے گئے۔
وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے اجلاس کے بعد بتایا کہ کابینہ نے بلوچستان منرل ڈیولپمنٹ فنڈ پالیسی کی منظوری دی ہے۔ اس پالیسی کا بیان کردہ مقصد معدنی وسائل سے حاصل آمدن کو عوامی فلاح اور صوبے کی ترقی سے جوڑنا ہے۔ کابینہ نے سیاحت اور ثقافت کی مجوزہ پالیسیوں کی بھی توثیق کی، جن کا تعلق سرمایہ کاری، روزگار کے امکانات اور تاریخی ورثے کے تحفظ سے ہے۔
تعلیم کے شعبے میں کابینہ نے بلوچستان نان فارمل ایجوکیشن ایکٹ 2025 کی منظوری دی۔ حکومتی منصوبے کے مطابق یہ اقدام 10 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 16 لاکھ ایسے بچوں کی تعلیمی شمولیت کے لیے ہے جو رسمی تعلیمی نظام سے باہر ہیں۔ اس کے ساتھ سرکاری اسکولوں میں دو شفٹوں میں پڑھائی کی بھی منظوری دی گئی تاکہ موجودہ عمارتوں اور سہولتوں سے زیادہ بچوں کو تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
صنعتی شعبے میں بند پڑے یونٹس دوبارہ کھولنے کے لیے مراعات منظور کی گئیں۔ حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد معاشی سرگرمیوں کی بحالی ہے، تاہم ان سے فوری طور پر کھلنے والے کارخانوں یا پیدا ہونے والی ملازمتوں کی تعداد کے بارے میں رپورٹ میں کوئی حتمی نتیجہ پیش نہیں کیا گیا۔
سرکاری خریداری کے قواعد میں ترامیم بھی اجلاس کا حصہ تھیں۔ کابینہ نے الیکٹرانک بولی کا دائرہ وسیع کرنے، شفافیت بڑھانے اور مسابقت پیدا کرنے کے اقدامات منظور کیے۔ رپورٹ کے مطابق متعلقہ خریداری کی اقسام میں پانچ لاکھ روپے سے زائد کے ٹینڈروں کے لیے الیکٹرانک بولی لازمی ہوگی۔ اس فیصلے کے عملی نفاذ کے لیے قواعد، متعلقہ سرکاری اداروں اور نگرانی کے نظام کی کارکردگی اہم ہوگی۔
شاہد رند نے یہ فیصلے عوامی خدمت اور انتظامی اصلاحات کی کوشش قرار دیے۔ تاہم کابینہ کی منظوری اور ان پالیسیوں کے زمینی نتائج الگ مراحل ہیں۔ معدنی فنڈ سے رقوم کی تقسیم، اسکولوں میں اضافی شفٹوں کے حقیقی آغاز اور الیکٹرانک بولی کی پابندی پر عمل درآمد کے بارے میں آئندہ سرکاری اعدادوشمار سے ہی جانچ ممکن ہوگی۔ موجودہ خبر میں تصدیق شدہ پیش رفت کابینہ کی جانب سے فیصلوں کی منظوری ہے، نہ کہ تمام منصوبوں کی تکمیل۔

