اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایک سول مقدمے میں قرار دیا ہے کہ ماتحت عدالت واضح طور پر غیر مؤثر، بلاجواز یا قانونی مدت ختم ہونے کے بعد دائر کیے گئے دعوے کو مدعا علیہ کی باضابطہ درخواست کے بغیر بھی ابتدائی مرحلے میں مسترد کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ ڈان کی 10 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کراچی میں جائیداد کے تنازع سے متعلق اپیل کی سماعت کرتے ہوئے قانونی اصول واضح کیے۔

فیصلے میں قانون تحدید 1908 کی دفعہ 3 اور ضابطہ دیوانی 1908 کے آرڈر سات رول گیارہ پر بحث کی گئی۔ عدالت کے مطابق ان قوانین میں ایسی کوئی عمومی پابندی نہیں جو عدالت کو ازخود واضح طور پر ناقابل سماعت دعویٰ خارج کرنے سے روکے۔ اگر دعوے کے اپنے متن سے ظاہر ہو کہ قانونی مدت گزر چکی ہے یا متعلقہ قانون اس دعوے کی اجازت نہیں دیتا تو عدالتی وقت اور فریقین کے وسائل بچانے کے لیے ابتدا ہی میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔

زیر بحث مقدمہ کراچی کے رشید منہاس روڈ پر واقع عسکری فور ہاؤسنگ کالونی کے ایک گھر سے متعلق تھا۔ عبد الوہاب شاہ سمیت دیگر مدعیان نے ملکیت کے اعلان، قبضے اور تقسیم سے متعلق دعویٰ دائر کیا تھا۔ ستمبر 2024 میں ٹرائل کورٹ نے قانونی مدت گزرنے کی بنیاد پر دعویٰ مسترد کر دیا تھا۔ بعد میں سندھ ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے کر زیر التوا درخواستوں، بشمول دعوے میں ترمیم کی درخواست، کو اکٹھا طے کرنے کا حکم دیا۔

مدعا علیہ محمد اسلام بادشاہ نے ہائی کورٹ کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ آٹھ صفحات پر مشتمل حکم میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ عدالت کو دعوے کے ابتدائی متن کا بامعنی جائزہ لے کر یہ دیکھنا چاہیے کہ واقعی قابل سماعت قانونی حق یا وجہ دعویٰ موجود ہے یا نہیں۔ محض رسمی خامیوں کی بنیاد پر انصاف تک رسائی ختم نہیں کی جا سکتی۔

فیصلے میں ایک اہم حد بھی بیان ہوئی: اگر دعوے میں مانگی گئی متعدد داد رسیوں میں سے کوئی ایک بھی قانوناً قابل سماعت ہو تو پورا دعویٰ جزوی طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں حقائق اور قانون کے سوالات باہم جڑے ہوں، وہاں فریقین کو تحریری جواب اور شہادت کے مراحل سے گزرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے متعلقہ حکم کا وہ حصہ کالعدم قرار دیا جس میں قابل سماعت ہونے کے سوال کو ترمیم کی درخواست کے ساتھ نمٹانے کی ہدایت تھی۔ ٹرائل کورٹ کو حکم دیا گیا کہ دونوں فریقوں کو مناسب سماعت کا موقع دے کر پہلے دعوے کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ قانون کے مطابق کرے اور پھر ضروری کارروائی آگے بڑھائے۔ اس خبر کا نتیجہ قانونی اختیار کی تشریح اور مقدمہ واپس متعلقہ عدالت کو بھیجنا ہے، نہ کہ جائیداد کی اصل ملکیت کے تنازع کا حتمی فیصلہ۔