اسلام آباد: ورلڈ اکنامک فورم کے ایک تجزیے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی اداروں کے حجم کے درمیان فرق کو بہتر حکمرانی کے لیے اہم چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ ڈان کی 10 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق فورم کے سینٹر فار ریجنز، ٹریڈ اینڈ جیوپولیٹکس نے کہا ہے کہ ملک میں انتظامی جغرافیے پر نظرثانی اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی ضرورت ہے تاکہ عوامی خدمات اور مقامی مسائل کے حل میں بہتری لائی جا سکے۔

تجزیے میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستان کی آبادی 2030 تک 26 کروڑ 50 لاکھ کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ فورم کا مؤقف ہے کہ اگر آبادی کا حجم مسلسل بڑھے، مگر فیصلہ سازی کا دائرہ اور انتظامی وسائل اسی تناسب سے تبدیل نہ ہوں تو حکومت اور شہریوں کے درمیان فاصلہ بڑھ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں انتظامی اکائیوں کے مناسب حجم، اختیارات، وسائل اور جواب دہی کا باہمی تعلق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

فورم نے واضح کیا کہ محض مزید صوبے یا انتظامی یونٹس بنانا ہر مسئلے کا حل نہیں۔ کمزور مالی بنیادوں اور ناکافی عملے پر قائم بڑی تعداد میں مقامی ادارے حکومت کو مزید تقسیم تو کر سکتے ہیں مگر خدمات کی فراہمی بہتر نہیں بنا سکتے۔ تجزیے میں زور دیا گیا کہ کسی بھی نئی اکائی کے لیے واضح ذمہ داریاں، قابل عمل مالی انتظام اور اہل ادارے ضروری ہیں۔

پاکستان میں انتظامی فرق کی مثال کے طور پر لاہور اور بلوچستان کے ضلع ہرنائی کی آبادی کا موازنہ پیش کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق لاہور ضلع میں لگ بھگ ایک کروڑ 30 لاکھ افراد آباد ہیں، جبکہ ہرنائی کی آبادی تقریباً ایک لاکھ 28 ہزار ہے۔ اس قدر مختلف اضلاع کے لیے ایک ہی انتظامی انداز کئی مقامی ضروریات کو پوری طرح نہیں سمجھ پاتا۔

تعلیم کے اعدادوشمار بھی تجزیے کا حصہ ہیں۔ فورم نے پلاننگ کمیشن کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن پرفارمنس انڈیکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جانچے گئے 134 اضلاع میں سے کوئی بھی انتہائی اعلیٰ کارکردگی کے درجے تک نہیں پہنچا۔ دستیاب گھریلو سروے کے مطابق پانچ سے سولہ سال کے تقریباً 28 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں۔ صوبوں میں یہ شرح پنجاب میں 21 اور بلوچستان میں 45 فیصد بتائی گئی۔

فورم نے 18ویں آئینی ترمیم اور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کو اختیارات کی تقسیم کی اہم گزشتہ پیش رفتوں میں شمار کیا، تاہم بتایا کہ کئی فیصلے اب بھی ان شہریوں سے دور ہوتے ہیں جن پر ان کے اثرات پڑتے ہیں۔ یہ ایک تجزیاتی سفارش ہے، پاکستان میں کسی نئے انتظامی نقشے کی سرکاری منظوری یا صوبائی سرحدوں میں تبدیلی کا اعلان نہیں۔ مستقبل میں کسی اصلاح کے لیے آئینی، سیاسی اور مالی تقاضے الگ سے طے کرنا ہوں گے۔