کوئٹہ: جمعیت علمائے اسلام (ف) نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بدامنی اور مختلف مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی ہے۔ ڈان کی 10 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ریلی کے شرکا نے شہر میں قتل، ٹارگٹ حملوں، چوری، ڈکیتی، منشیات کی غیر قانونی تجارت اور دیگر جرائم کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ یہ احتجاج شہری تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سے متعلق مقامی سیاسی ردعمل کے طور پر سامنے آیا۔

ریلی سے جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی امیر مولانا عبدالرحمان رفیق، جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس اور دوسرے مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ عناصر اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں نے مقامی شہریوں میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھایا ہے۔ انہوں نے حکومتی اور انتظامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ شہر میں امن قائم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

مقررین نے الزام عائد کیا کہ بعض مسلح گروہوں کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ یہ دعویٰ احتجاجی رہنماؤں کا الزام ہے، جس کی آزادانہ تصدیق ڈان کی خبر میں پیش نہیں کی گئی۔ اس لیے اسے کسی سرکاری تحقیقات یا عدالتی فیصلے کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ احتجاجی رہنماؤں نے ایسے افراد کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا جو ان کے بقول مجرمانہ سرگرمیوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

پارٹی رہنماؤں نے بڑھتے ہوئے جرائم کی ذمہ داری انتظامیہ کی غفلت اور حکومتی بے توجہی پر عائد کی۔ سیاسی احتجاج کے دوران حکومتی کارکردگی پر تنقید شہری مسائل اجاگر کرنے کا ایک ذریعہ ہے، مگر مخصوص جرائم کی تعداد، ان کے ذمہ دار افراد اور کسی سرکاری اہلکار کے کردار کا تعین باقاعدہ تفتیش اور مصدقہ ثبوت سے ہوتا ہے۔ زیر نظر خبر میں ایسے کسی حتمی تحقیقاتی نتیجے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

کوئٹہ میں سکیورٹی اور امن و امان کا سوال شہری زندگی، کاروباری سرگرمیوں اور عوام کی روزمرہ نقل و حرکت سے جڑا ہے۔ جب کسی شہر کے مختلف علاقوں میں جرائم کا خدشہ بڑھتا ہے تو سیاسی جماعتیں اور شہری حلقے عموماً پولیس کی جواب دہی اور فوری حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تاہم مذکورہ ریلی کے حوالے سے پولیس کے کسی نئے آپریشن، گرفتاری یا جرم میں ثابت شدہ کمی کی تفصیل دستیاب نہیں۔

احتجاج میں پیش کیے گئے مطالبات کا مرکزی نکتہ مجرمانہ عناصر کے خلاف کارروائی اور انتظامیہ کی جواب دہی تھا۔ اس وقت تصدیق شدہ واقعہ احتجاجی ریلی اور اس میں ہونے والی تقاریر ہیں۔ حکومت یا پولیس کی جانب سے الزامات پر باضابطہ ردعمل، عملی اقدامات یا تحقیقات کے نتائج سامنے آنے پر صورتحال کا زیادہ جامع جائزہ ممکن ہوگا۔