اسلام آباد: بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ماہرین نے پاکستان میں جوہری مواد اور تنصیبات کے جسمانی تحفظ کے لیے قائم نظام کا پہلا جامع آئی پی پاس جائزہ مکمل کر لیا ہے۔ ڈان کی 10 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق 12 روزہ مشن کے اختتام پر ماہرین نے پاکستان کے جوہری تحفظ کے ضابطہ جاتی اور عملی انتظامات کو مضبوط قرار دیا اور مزید بہتری کے لیے سفارشات پیش کیں۔

آئی اے ای اے کے انٹرنیشنل فزیکل پروٹیکشن ایڈوائزری سروس یعنی آئی پی پاس مشن نے پاکستان میں جوہری مواد اور تنصیبات کے تحفظ سے متعلق قانونی اور ریگولیٹری ڈھانچے کا جائزہ لیا۔ ٹیم نے اپنے دورے کے دوران جس مخصوص تنصیب کا معائنہ کیا، وہاں جسمانی تحفظ کے ضوابط کے نفاذ کو مناسب قرار دیا۔ اس نوعیت کا جائزہ مختلف اداروں اور تنصیبات کے تحفظ کی صلاحیت جانچنے اور عالمی رہنما اصولوں کے تناظر میں بہتری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

ایجنسی کے جمعے کو جاری بیان کے مطابق پاکستان میں وقتاً فوقتاً جائزوں کے ذریعے تحفظ کا نظام بہتر بنایا جاتا ہے۔ ماہرین نے ریگولیٹری اور تنصیبات کی سطح پر بعض اچھے طریقوں کی نشاندہی کی، مگر اس کے ساتھ قواعد، طریقہ کار اور تحفظ کے دیگر پہلو مزید مستحکم کرنے کی سفارشات بھی دیں۔ ان سفارشات کا ہونا اس امر کی علامت ہے کہ مثبت جائزے کے باوجود بہتری کی گنجائش باقی ہے۔

سات رکنی مشن کی قیادت خمار مربط نے کی، جو مراکش کے جوہری و تابکاری تحفظ کے ادارے کے سابق ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں۔ ٹیم میں چین، رومانیہ، روس اور سلواکیہ کے ماہرین کے علاوہ آئی اے ای اے کے دو اہلکار شامل تھے۔ مشن پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کی میزبانی اور حکومت کی درخواست پر منعقد کیا گیا۔

ٹیم نے پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور متعلقہ اداروں کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ماہرین کراچی نیوکلیئر پاور جنریٹنگ اسٹیشن کے کینپ ڈی کمیشننگ پروجیکٹ بھی گئے، جہاں انہوں نے بند ہو چکے ری ایکٹر سے متعلق سرگرمیوں اور استعمال شدہ ایندھن کے ذخیرے کے انتظامات کا مشاہدہ کیا۔ مذکورہ ری ایکٹر 1971 سے کام کرتا رہا اور 2021 میں مستقل طور پر بند کیا گیا تھا۔

آئی اے ای اے کی نائب ڈائریکٹر جنرل کارین ہرویو نے مشن کی تکمیل کو پاکستان کے جوہری تحفظ کے انتظامی اور عملی پہلوؤں کو مزید بہتر بنانے کے عزم کا اظہار قرار دیا۔ پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین ضیا حسین شاہ نے کہا کہ بین الاقوامی ماہرین کی رائے مستقبل میں قانونی و ضابطہ جاتی فریم ورک کو مزید مستحکم بنانے میں مدد دے گی۔ اس خبر کا بنیادی نتیجہ جائزے کی تکمیل اور اس کے مشاہدات ہیں؛ اسے تمام ممکنہ خطرات کے خاتمے یا مستقبل کے ہر حفاظتی نتیجے کی ضمانت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔