بلوچستان کے اضلاع چاغی اور پشین میں 31 اگست اور یکم ستمبر 2026 کی درمیانی شب پیش آنے والے دو الگ سکیورٹی واقعات میں 21 مبینہ دہشت گرد ہلاک جبکہ پانچ سکیورٹی اہلکار اور محکمہ کسٹمز کا ایک اہلکار شہید ہوگئے۔ ڈان، ایکسپریس ٹریبیون اور بزنس ریکارڈر نے فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ ایک واقعہ نوکچہ، ضلع چاغی، اور دوسرا زیارت کراس، ضلع پشین، کے علاقے میں پیش آیا۔ ہلاکتوں، تنظیمی وابستگی اور حملے کے مقاصد سے متعلق تفصیلات آئی ایس پی آر کے سرکاری مؤقف پر مبنی ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پشین میں مسلح افراد نے مربوط کارروائی کے ذریعے کسٹمز ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور دس حملہ آور مارے گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ فرار ہونے والے افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم ان اضافی نقصانات کی الگ تعداد جاری نہیں کی گئی۔ جھڑپ میں چھ افراد جان سے گئے جن میں پانچ سکیورٹی اہلکار، دو فوجی افسران اور محکمہ کسٹمز کا ایک سرکاری اہلکار شامل تھے۔ دستیاب رپورٹس میں شہدا کے تمام نام اور دیگر ممکنہ زخمیوں کی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔

فوجی بیان نے کسٹمز ہاؤس پر حملے کو دہشت گردی اور منظم جرائم کے مبینہ گٹھ جوڑ سے جوڑا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ حملے کا مقصد کسٹمز اہلکاروں کو قانونی فرائض کی انجام دہی سے روکنا اور علاقے میں مجرمانہ سرگرمی جاری رکھنے میں سہولت پیدا کرنا تھا۔ یہ حملے کے محرک سے متعلق سرکاری ادارے کا جائزہ ہے؛ کسی عدالتی کارروائی یا آزاد تحقیق کا نتیجہ نہیں۔

دوسرے واقعے میں آئی ایس پی آر کے مطابق مسلح افراد نے 31 اگست کو چاغی کے علاقے میں این 40 کوئٹہ-تفتان شاہراہ پر غیر قانونی ناکہ لگا کر مسافروں کی نقل و حرکت روکنے اور مبینہ طور پر بھتہ وصول کرنے کی کوشش کی۔ سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی جس کے نتیجے میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے۔ بیان میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا، لیکن جاری معلومات میں ہر چیز کی مقدار یا تفصیلی فہرست شامل نہیں تھی۔

آئی ایس پی آر نے ہلاک ہونے والے افراد کو سرکاری طور پر استعمال ہونے والی اصطلاحات ’’فتنہ الخوارج‘‘ اور ’’فتنہ الہندوستان‘‘ سے منسلک کیا۔ ریاست پہلی اصطلاح کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے استعمال کرتی ہے، جبکہ دوسری اصطلاح بلوچستان میں سرگرم گروہوں اور بھارت کے مبینہ کردار کو بیان کرنے کے لیے برتی جاتی ہے۔ بھارت سے معاونت کا دعویٰ پاکستانی فوجی بیان سے منسوب ہے اور دستیاب خبر میں آزادانہ ثبوت یا بھارتی ردعمل شامل نہیں۔

فوج نے بتایا کہ گرد و نواح میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری تھا تاکہ ممکنہ طور پر موجود دیگر حملہ آوروں کو تلاش کیا جاسکے اور آبادی کے ساتھ قومی شاہراہوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔ بیان میں عزمِ استحکام اور قومی ایکشن پلان کے تحت انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

یہ واقعات بلوچستان میں کسٹمز تنصیبات، اہم معدنی اور تجارتی راستوں اور بین الصوبائی شاہراہوں کو درپیش سکیورٹی خطرات کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔ فی الحال تصدیق شدہ معلومات یہ ہیں کہ آئی ایس پی آر نے دو مقامات پر مجموعی طور پر 21 مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت، چھ اہلکاروں کی شہادت اور اسلحہ برآمدگی کی اطلاع دی۔ ان اعداد اور حملے کے پس منظر کی آزادانہ میدانی توثیق دستیاب رپورٹس میں موجود نہیں، اس لیے تمام آپریشنل دعوے متعلقہ سرکاری ذریعے سے واضح طور پر منسوب کیے گئے ہیں۔