کوئٹہ: بلوچستان کے محکمہ صحت نے سرکاری ہسپتالوں اور مراکزِ صحت میں ڈیوٹی سے طویل غیر حاضری پر 72 ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق یہ کارروائی صوبائی حکومت کی جانب سے طبی عملے کی حاضری بہتر بنانے کے لیے متعارف کرائے گئے مصنوعی ذہانت پر مبنی مانیٹرنگ نظام کے تحت سامنے آنے والی معلومات اور متعلقہ انتظامی عمل کے بعد کی گئی۔
محکمہ صحت کے سیکریٹری کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ 2011 کی دفعہ 4(B)(viii) کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ صوبے کے سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی طبی مراکز میں ڈاکٹروں اور دیگر عملے کی موجودگی کو نئے حاضری نظام کے ذریعے مانیٹر کیا جا رہا ہے تاکہ مریضوں کو مقررہ اوقات میں طبی سہولت میسر ہو اور غیر حاضری کے مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔
صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے میں انتظامی اصلاحات کو اپنی ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے۔ حکام کے مطابق وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی ہدایات پر محکمہ صحت کی کارکردگی، عملے کی دستیابی اور سروس ڈیلیوری کی نگرانی کے طریقہ کار کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔ تازہ برطرفیوں کو اسی پالیسی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
اے آئی پر مبنی حاضری نظام کا بنیادی مقصد ملازمین کی روزانہ موجودگی کے ریکارڈ کو زیادہ قابلِ تصدیق بنانا اور انتظامیہ کو غیر حاضری کے رجحانات کی بروقت نشاندہی میں مدد دینا ہے۔ تاہم کسی ملازم کے خلاف حتمی تادیبی کارروائی الگ قانونی اور انتظامی ضابطوں کے تحت ہوتی ہے؛ اس لیے برطرفی کو محض خودکار نظام کا فیصلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ دستیاب سرکاری مؤقف کے مطابق کارروائی متعلقہ قانون کے تحت نوٹیفکیشن کے ذریعے کی گئی ہے۔
بلوچستان کے دور دراز اضلاع میں طبی عملے کی دستیابی ایک دیرینہ انتظامی مسئلہ رہی ہے، اس لیے حاضری کی نگرانی کے نئے نظام کی کامیابی کا عملی پیمانہ یہ ہوگا کہ آیا سرکاری مراکز میں ڈاکٹروں کی موجودگی اور مریضوں کو خدمات کی فراہمی میں مستقل بہتری آتی ہے یا نہیں۔ محکمہ صحت نے فی الحال 72 ڈاکٹروں کی برطرفی کی تصدیق کی ہے اور اس کارروائی کو جاری اصلاحاتی عمل سے جوڑا ہے۔
