راولپنڈی/ٹیکسلا: ٹیکسلا کے گنگو پولیس چیک پوسٹ پر ایک 30 سالہ شخص کی موت کے بعد راولپنڈی پولیس نے قانونی کارروائی شروع کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق متوفی خانپور کی جانب سے ٹیکسلا جا رہا تھا جب پولیس اہلکاروں نے گاڑی کی تلاشی کے لیے اسے چیک پوسٹ پر روکا۔
متوفی کے اہل خانہ اور مقامی افراد نے الزام عائد کیا کہ تلاشی کے دوران پولیس اہلکاروں نے اسے شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ متاثرہ شخص نے اہلکاروں سے مارپیٹ روکنے کی درخواست کی اور موقع پر موجود بچوں نے بھی اسے چھوڑنے کی اپیل کی، تاہم وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔ یہ الزامات تاحال عدالتی یا حتمی تحقیقاتی نتیجے کے ذریعے ثابت نہیں ہوئے، اس لیے انہیں اہل خانہ کے دعوے کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد مقامی آبادی نے احتجاج کیا اور ٹیکسلا-خانپور روڈ بند کر دی۔ رپورٹ کے مطابق احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں کو بھی گھیر لیا گیا، جبکہ عینی شاہدین نے کہا کہ بعض مظاہرین کے حملے میں ایک پولیس اہلکار شدید زخمی ہوا۔ صورتحال کشیدہ ہونے پر سینئر پولیس افسران موقع پر پہنچے۔ بعد ازاں سڑک ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دی گئی۔
راولپنڈی پولیس کے ترجمان انسپکٹر سجاد الحسن نے بتایا کہ قانونی کارروائی جاری ہے اور معاملے کی میرٹ پر چھان بین کی جائے گی تاکہ قتل کے ذمہ دار پائے جانے والے افراد کو قانون کے مطابق گرفتار کیا جا سکے۔ پولیس کی جانب سے اس مرحلے پر کسی مخصوص اہلکار کو مجرم قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی تحقیقات کا حتمی نتیجہ سامنے آیا ہے۔
واقعہ پولیس کے زیر حراست یا چیکنگ کے دوران طاقت کے استعمال سے متعلق جوابدہی کے سوالات کو دوبارہ نمایاں کرتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق بنیادی طور پر دو پہلو زیرِ تحقیق ہوں گے: شہری کی موت کی طبی اور قانونی وجہ کیا تھی، اور موقع پر تعینات اہلکاروں نے قانون اور پولیس کے قواعد کے مطابق طاقت استعمال کی یا نہیں۔ حتمی ذمہ داری کا تعین تفتیش، طبی شواہد اور دیگر دستیاب شہادتوں کی بنیاد پر ہوگا۔
