فیصل آباد: وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی سالانہ آمدن، جو ان کے وزارت سنبھالنے کے وقت 66 ارب روپے تھی، بڑھ کر 164 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حاصل ہونے والے وسائل ملک میں اہم ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں اور جدید سڑکوں کا نیٹ ورک کاروباری سرگرمیوں کے لیے وقت اور لاگت کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق وفاقی وزیر نے بتایا کہ حیدرآباد سکھر موٹروے پر کام اگلے ماہ شروع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے اور منصوبے کی تکمیل دو سال میں کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ یہ بیان منصوبے کے آغاز اور تکمیل سے متعلق حکومتی ہدف ہے؛ اسے تعمیراتی پیش رفت یا مکمل شدہ معاہدے کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ نئی شاہراہوں سے کاروباری برادری کو سفر اور مال برداری میں وقت اور پیسے کی بچت کے ساتھ ملک میں سرمایہ کاری کے مزید مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق بہتر زمینی رابطے پاکستان کی وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کو بھی تقویت دے سکتے ہیں۔ حکومت طویل عرصے سے علاقائی رابطہ کاری کو تجارت اور ٹرانزٹ کے امکانات سے جوڑتی رہی ہے، تاہم ان امکانات کا عملی حجم متعلقہ سرحدی، تجارتی اور لاجسٹک انتظامات پر بھی منحصر ہوگا۔
وزیر مواصلات نے این ایچ اے کو مالی طور پر مضبوط اور خود کفیل ادارہ بنانے کا ہدف بھی بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اتھارٹی کی سالانہ مالی استعداد 500 ارب روپے تک پہنچے تو 2 ہزار ارب روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔ یہ اعداد مستقبل کے ایک تصور اور مالی صلاحیت کے ہدف کے طور پر پیش کیے گئے، نہ کہ پہلے سے منظور شدہ 2 ہزار ارب روپے کے منصوبوں کی فہرست کے طور پر۔
انہوں نے موٹرویز کے دونوں اطراف پھل دار درخت لگانے اور مخصوص زمین لیز پر دینے کی ایک زیر غور تجویز کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق اس اقدام سے ماحول میں بہتری کے ساتھ این ایچ اے کے لیے اضافی آمدن کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس تجویز کے نفاذ، رقبے، لیز کے قواعد یا مالی تخمینے کی تفصیلات سرکاری بیان میں فراہم نہیں کی گئیں۔
وفاقی وزیر نے کاروباری برادری کے مسائل حل کرنے اور جدید سڑکوں کے ذریعے قومی معیشت کو سہارا دینے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ فیصل آباد میں ان کا خطاب ایسے وقت ہوا ہے جب ملک کے بڑے صنعتی اور تجارتی مراکز کے درمیان تیز اور قابل اعتماد زمینی رابطہ کاروباری شعبے کی مستقل ترجیحات میں شامل ہے۔
